چند دنوں میں ایران کے ساتھ جنگ چھڑنے کے منظر نامے کی تیاری کر رہے ہیں : اسرائیلی حکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیلی حکام نے آج بدھ کے روز انکشاف کیا ہے کہ تل ابیب چند دنوں میں ایران کے ساتھ جنگ چھڑنے کے امکان کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ صورت حال خطے میں امریکی فوجی کمک کی موجودگی اور واشنگٹن و تہران کے درمیان کشیدگی میں بے تحاشا اضافے کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔

اسرائیلی اور امریکی حکام نے axios ویب سائٹ کو بتایا کہ جاری تیاریاں اس مفروضے پر مبنی ہیں کہ سفارتی راستہ ناکام ہو سکتا ہے، جو ایران کے خلاف ایک بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کا دروازہ کھول سکتا ہے، اس کے بارے میں غالب امکان ہے کہ یہ امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی ہوگی۔

ذرائع کے مطابق کوئی بھی امریکی فوجی اقدام محض ایک محدود ضرب نہیں ہو گا، بلکہ یہ ایک ایسی مہم ہوگی جو ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے اور اپنی نوعیت میں ایک ہمہ گیر جنگ کے قریب ہوگی۔ اس میں ایران کے جوہری اور میزائل ڈھانچے کے علاوہ ممکنہ طور پر نظام سے وابستہ سکیورٹی اداروں کو وسیع پیمانے پر نشانہ بنایا جائے گا۔

دوسری جانب واشنگٹن کے اندر سے سامنے آنے والے کچھ اندازے اشارہ کرتے ہیں کہ فیصلہ ابھی حتمی طور پر نہیں ہوا اور امریکی انتظامیہ کو مزید وقت درکار ہو سکتا ہے۔

ادھر ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے کہا ہے کہ ممکنہ حملے اب سے چند ہفتوں کے فاصلے پر ہو سکتے ہیں، جبکہ "axios" کے مطابق دیگر کا خیال ہے کہ وقت کا یہ تخمینہ اس سے بھی کم ہو سکتا ہے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ دہرے راستے پر گامزن ہے جس میں مذاکرات اور فوجی کشیدگی دونوں شامل ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیروں، جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف نے جنیوا میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی۔ یہاں دونوں فریقوں نے مذاکرات میں "پیش رفت" کی بات کی، باوجود اس کے کہ امریکی حکام نے دونوں فریقوں کے درمیان خلیج کے وسیع ہونے کا اعتراف کیا ہے۔

اس سے پہلے امریکی نائب صدر اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں کہ صدر ٹرمپ نے کچھ "سرخ لکیریں" مقرر کی ہیں جنہیں تسلیم کرنے یا ان سے نمٹنے سے تہران اب بھی انکاری ہے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ، کسی معاہدے تک پہنچنے کی خواہش کے باوجود، یہ سمجھ سکتے ہیں کہ اگر کوئی ٹھوس پیش رفت نہ ہوئی تو سفارت کاری اپنی "فطری انتہا" کو پہنچ چکی ہے۔

یاد رہے کہ کل ہونے والے مذاکرات کا دور 6 فروری کو ہونے والے پہلے دور کے بعد ہوا ہے، جسے امریکی اور ایرانی دونوں فریقوں نے مثبت قرار دیا تھا، جبکہ توقع ہے کہ تیسرا دور چند ہفتوں میں منعقد ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں