حماس: ہم غزہ امن فوج کے لیے رضامند ہیں لیکن مداخلت قبول نہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

حماس کے ترجمان حازم قاسم نے جمعہ کے روز اے ایف پی سے گفتگو میں غزہ میں بین الاقوامی امن دستوں کے لیے فلسطینی گروپ کی آمادگی ظاہر کی لیکن انہوں نے علاقے کے "اندرونی معاملات" میں کسی قسم کی مداخلت کو مسترد کر دیا۔

جمعرات کو واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے "بورڈ آف پیس" کے افتتاحی اجلاس میں یہ اعلان کیا گیا تھا کہ معدودے چند ممالک غزہ کے لیے ایک نوزائیدہ بین الاقوامی استحکام فورس (آئی ایس ایف) کے لیے اپنے فوجی بھیجیں گے۔

مراکش نے آئی ایس ایف میں پولیس کے ساتھ ساتھ فوجی بھیجنے کے لیے آمادگی کا اعلان کیا جبکہ فورس کے امریکی کمانڈر میجر جنرل جیسپر جیفرز نے کہا کہ البانیہ، انڈونیشیا، قازقستان اور کوسوو بھی فوج بھیجنے پر رضامند تھے۔

حماس کے ترجمان قاسم نے اے ایف پی کو بتایا، "بین الاقوامی افواج کے بارے میں ہمارا مؤقف واضح ہے۔ ہم وہ امن افواج چاہتے ہیں جو جنگ بندی کی نگرانی کریں، اس کے نفاذ کو یقینی بنائیں اور غزہ کے اندرونی معاملات میں مداخلت کیے بغیر پٹی میں قابض فوج اور ہمارے لوگوں کے درمیان بفر کے طور پر کام کریں۔"

آئی ایس ایف کا مقصد 20,000 فوجیوں کے ساتھ ساتھ ایک نئی پولیس فورس کا قیام بھی ہے۔ انڈونیشیا نے کہا ہے کہ وہ 8000 تک فوجی بھیجنے کے لیے تیار ہے۔

امریکہ کے غزہ کے لیے نامزد کردہ اعلیٰ نمائندہ نکولے ملاڈینوف نے بورڈ آف پیس کے اجلاس میں غزہ میں حماس کے بعد کی پولیس فورس کے لیے بھرتی کے آغاز کا اعلان کیا۔

قاسم نے مزید کہا، "فلسطینی پولیس فورسز کو ان کے قومی فریم ورک کے اندر تربیت دینا کوئی مسئلہ نہیں ہے، اگر اس کا مقصد پٹی میں داخلی سلامتی کو برقرار رکھنا اور اس افراتفری کا مقابلہ کرنا ہو جو قابض اسرائیل اور اس کی ملیشیا پیدا کرنا چاہتے ہیں۔"

اکتوبر میں ٹرمپ انتظامیہ کے ثالثین قطر اور مصر سے جنگ بندی پر طویل مذاکرات کے بعد بورڈ آف پیس کا قیام عمل میں لایا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں