غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری سے تباہ ہونے والی لائبریری کی باقیات کو محفوظ کرنے کے لیے فلسطینی رضاکاروں نے قومی ورثے کے طور پر بچا رکھنے کے لیے کام شروع کر دیا ہے۔ ملبے کے ڈھیروں کے درمیان مٹی سے اٹی ہوئی کتب غزہ کی قدیم ترین لائبریری کا حصہ تھیں۔
اس لائبریری کو 'عمری مسجد' کی لائبریری کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اسرائیلی بمباری نے اسے خوفناک حد تک تباہ کر دیا ہے۔ غزہ میں اسرائیلی جنگ کا آغاز 7 اکتوبر 2023 کو کیا گیا تھا۔ ہزاروں قدیمی کتابی نسخوں اور انتہائی قیمتی مخطوطوں کو بمباری کر کے تباہ کیا گیا ہے۔
عمری مسجد غزہ کے پرانے شہر غزہ سٹی میں قائم تھی۔ اب اس کا بیشتر حصہ تباہ ہو چکا ہے جبکہ بچی کھچی کتب بھی مٹی کے ڈھیر میں بدل چکی ہیں۔
حنین الآمسی نے 'اے ایف پی' سے بات کرتے ہوئے کہا میں نے جب اس لائبریری کو بمباری سے تباہ ہونے کے بعد دیکھا تو مجھے بدترین صدمے سے گزرنا پڑا۔ اسی احساس نے اسے مجبور کیا کہ وہ اس لائبریری کی بحالی کے لیے کچھ کرے۔ وہ ثقافتی و تمدنی ورثے کے بچاؤ کے لیے قائم 'آئیز آن ہیریٹج والینٹیئر فاؤنڈیشن' کی سربراہ ہیں۔
انہوں نے کہا اسرائیلی فوج نے جنگ کے دنوں میں لائبریری کو مسجد سمیت جلا دیا تھا۔ جس سے اسے ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ لائبریری میں تقریباً 20 ہزار کتب تھیں لیکن اب صرف 3 ہزار سے 4 ہزار کتب بچی ہیں۔ امید ہے ہمارے رضاکار ملبے و راکھ کے ڈھیروں میں سے کچھ اور بچی کھچی کتابیں نکال سکیں گے۔
لائبریری میں قدیم مخطوطے بھی موجود تھے۔ خیال رہے عمری مسجد لائبریری کو فلسطینی علاقے کی تیسری بڑی لائبریری تصور کیا جاتا تھا۔ جو کہ مسجد الاقصیٰ کی لائبریری اور احمد پاشا الجزار لائبریری کے بعد بڑی لائبریری تھی۔
یہ اس ناطے بھی ایک اہم لائبریری تھی کہ اس میں قدیم مخطوطے تھے اور کتابوں کا ایک مستند اور متنوع ذخیرہ تھا۔ حنین الآمسی نے کہا لائبریری کی اس تباہی نے غزہ کو صدیوں پیچھے دھکیل دیا ہے۔ غزہ کی پٹی اب محض ایک آثار قدیمہ کی شکل میں باقی ہے اور وہ بھی تباہ شدہ ہے۔
جنوری 2026 میں اقوام متحدہ کے ثقافتی تحفظ کے ادارے 'یونیسکو' نے غزہ میں دو سالہ جنگ کے دوران ایسی 150 قدیمی ورثے کی علامت جگہوں کی تباہی کا اندازہ کیا جنہیں اسرائیل نے بمباری کر کے تباہ کیا۔ ان میں 14 مذہبی و مقدس مقامات تھے۔ جبکہ 115 تاریخی و قدیمی عمارتیں تھیں۔
تاریخ کی نمائندگی
لائبریری میں قدیمی پتھر سے بنے کمرے میں قدیمی اشیاء بھی موجود تھیں۔ 'آئیز آن ہیریٹج والینٹیئر فاؤنڈیشن' کے رضاکار ملبے کے ڈھیر میں سے کتب کو نکالنے کی کوشش میں تھے۔
حنین الآمسی نے بات کرتے ہوئے کہا اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں تاریخی و قدیمی کتب 700 ، 800 دنوں سے زائد عرصے تک ملبے کے نیچے دبی رہی ہیں۔
اقوام متحدہ کے قائم کردہ ایک آزاد کمیشن نے پچھلے سال جون میں کہا تھا کہ غزہ میں سکولوں اور مذہبی و ثقافتی مراکز پر اسرائیلی بمباری جنگی جرائم کے مترادف ہے۔
یاد رہے اسرائیل نے آدھے سے زیادہ غزہ میں مسلسل بمباری کر کے ثقافتی اداروں کو تباہ کر دیا ہے جبکہ تعلیمی اداروں کی تباہی ان سے بھی زیادہ کی گئی ہے۔
حنین الآمسی نے کہا یہ کتابیں شہر کی تاریخ کی نمائندہ ہیں اور تاریخ کی گواہ ہیں کہ اس شہر میں کب کیا ہوتا رہا۔