واشنگٹن پوسٹ کے دعوے کی تردید،ایران پرحملہ کرنے کے لیے سعودی عرب نے امریکہ کولابنگ نہیں کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

واشنگٹن میں سعودی سفارت خانے نے واشنگٹن پوسٹ کی ایک حالیہ رپورٹ کی تردید کی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا کہ مملکت حالیہ ہفتوں اور مہینوں میں ایران پر حملہ کرنے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نجی طور پر لابنگ کر رہی تھی۔

واشنگٹن میں سعودی سفارتخانے کے ترجمان فہد ناظر نے کہا، "سعودی مملکت ایران کے ساتھ ایک قابلِ اعتماد معاہدہ طے کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت میں مستقل مزاجی سے کام کر رہی ہے۔ "ٹرمپ انتظامیہ سے اپنی تمام بات چیت میں کسی بھی موقع پر ہم نے صدر سے مختلف پالیسی اپنانے کے لیے لابنگ نہیں کی،" انہوں نے ایکس پر ایک پوسٹ میں مزید کہا۔

سعودی عرب خطے میں فوجی تصادم کو روکنے کے لیے کام کرنے والے خلیجی ممالک میں شامل تھا اور اعلانیہ کہا کہ وہ کسی ممکنہ جنگ کا حصہ نہیں بنے گا۔

ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے 26 جنوری کو فون پر ایرانی صدر کو بتایا کہ مملکت ایران پر کسی فوجی حملے کے لیے اپنی فضائی حدود یا سرزمین کے استعمال کی اجازت نہیں دے گی۔

تاہم ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایران نے ہمسایہ ممالک پر بلااشتعال فائرنگ شروع کر دی۔

ایران نے 24 گھنٹوں کے اندر خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ہر ملک کو نشانہ بنایا اور حملہ کیا۔ آپریشن ایپک فیوری نامی امریکی-اسرائیلی کارروائی میں اب تک درجنوں اعلیٰ ایرانی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں جن میں اس کے دیرینہ رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای بھی شامل ہیں۔

امریکہ، سعودی عرب، بحرین، اردن، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات نے اتوار کی رات ایک مشترکہ بیان پر دستخط کیے جس میں ایران پر خطے کے ممالک اور شہریوں کو نشانہ بنانے پر تنقید کی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں