اسرائیل کا ایران پر نیا حملہ ، سرکاری نشریاتی ادارے کو نشانہ بنایا گیا
عینی شاہدین کے مطابق زور دار دھماکے سنے گئے
اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے تہران میں "ایرانی دہشت گرد نظام" کے خلاف حملوں کی ایک نئی لہر شروع کر دی ہے …اور ایرانی دارالحکومت میں ایرانی سرکاری ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے ہیڈ کوارٹر کو تباہ کر دیا ہے۔ عینی شاہدین نے شدید دھماکوں کی آوازیں سنی جانے کی اطلاع دی ہے۔
فوج نے آج منگل کے روز ٹیلی گرام ایپ پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی فضائیہ نے "ایرانی دہشت گرد نظام سے وابستہ اہداف کے خلاف اضافی حملے شروع کر دیے ہیں... نظام کے مواصلاتی مرکز کو نشانہ بنا کر اسے تباہ کر دیا ہے"۔
فوج نے مزید کہا کہ "ایرانی نشریاتی ادارے نے برسوں سے اسرائیل کی تباہی اور ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کی دعوت دی ہے" نیز اس نے "ایران میں آبادی کو دبانے میں براہ راست کردار ادا کیا ہے"۔ اسرائیلی فوج نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ تہران بھر میں ایرانی نظام کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا جاری رکھے گی۔
دوسری جانب ایرانی سرکاری چینل "پریس ٹی وی" نے اطلاع دی ہے کہ ایرانی ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے نشریاتی مرکز پر حملہ کیا گیا ہے۔
اس سے قبل، اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان نے فارسی زبان میں ایک اپیل جاری کی تھی جس میں تہران کے شمال میں واقع علاقے ایوین کے تمام رہائشیوں کو فوری حملوں کے پیش نظر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی تھی۔ دارالحکومت کا ایک نقشہ بھی شائع کیا گیا جس میں متعلقہ علاقے کی نشان دہی کی گئی تھی، جہاں ایرانی ریڈیو اور ٹیلی ویژن کا ہیڈ کوارٹر اسی علاقے میں واقع ہے۔
سوشل میڈیا پر فارسی زبان میں گردش کرنے والے پیغام میں کہا گیا "پیارے شہریوں، آپ کی حفاظت اور صحت کی خاطر، ہم آپ سے نقشے پر نشان زدہ علاقے کو فوری طور پر چھوڑنے کی درخواست کرتے ہیں۔ اس علاقے میں آپ کی موجودگی آپ کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالتی ہے"۔
تاہم اس بات کا امکان کم ہے کہ یہ انتباہ رہائشیوں تک پہنچا ہو، کیونکہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے گزشتہ ہفتے کے روز ایران پر بڑے پیمانے پر حملے کے آغاز کے بعد حکام نے ایران میں انٹرنیٹ بند کر دیا ہے۔