نشانہ بنائے جانے کی دھمکی کے بعد ایرانی "قدس فورس" کے افسران بیروت سے روانہ: رپورٹ

امریکی ویب سائٹ ایکسیوس کے مطابق یہ افسران حزب اللہ کے عسکری مشیروں کے طور پر کام کر رہے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایک اسرائیلی عہدے دار نے امریکی ویب سائٹ axios سے گفتگو میں انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے 48 گھنٹوں کے اندر نشانہ بنائے جانے کے انتباہ کے بعد پاسدارانِ انقلاب کے گروہ بیروت سے روانہ ہو گئے ہیں۔

ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق یہ ایرانی افسران زیادہ تر "قدس فورس" کے ارکان تھے جو حزب اللہ کے فوجی مشیروں کے طور پر کام کر رہے تھے اور تنظیم کی عسکری کارروائیوں پر گہرا اثر رکھتے تھے۔ رپورٹ میں اشارہ کیا گیا ہے کہ ان میں سے بعض ماہرین بیروت میں ایرانی سفارت خانے سے اپنی سرگرمیاں انجام دے رہے تھے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کا ایک چھوٹا دستہ "قدس فورس" کی موجودگی برقرار رکھنے اور حزب اللہ کے ساتھ ہم آہنگی کے لیے بیروت میں ہی ٹھہر گیا ہے۔ ایک اسرائیلی دفاعی عہدے یدار کا کہنا ہے "ہمیں توقع ہے کہ اگلے چند روز کے دوران لبنان سے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا انخلا جاری رہے گا"۔

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ دو سالوں کے دوران حزب اللہ کی فوجی منصوبہ بندی میں پاسدارانِ انقلاب کا کردار نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے، کیونکہ اسرائیل نے منظم طریقے سے حزب اللہ کے کئی تجربہ کار کمانڈروں کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس سے پیدا ہونے والے خلا کو تہران نے پُر کیا۔

ایک اسرائیلی عہدے دار نے دعویٰ کیا کہ حزب اللہ کی کمزور ہوتی ہوئی صفیں اسرائیل کے ساتھ نیا محاذ کھولنے میں ہچکچاہٹ کا شکار تھیں، لیکن بالآخر ایران کے شدید دباؤ پر یکم مارچ کو جنگ میں شامل ہو گئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے فوج کو ایران پر توجہ مرکوز کرنے کی ہدایت دی تھی، کیونکہ حالیہ دنوں میں حزب اللہ کا محاذ کافی وسعت اختیار کر گیا ہے۔

عہدے دار کے مطابق، ہفتہ کے روز جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک اسرائیل نے پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ کو تہران میں اور ان کے نائب کو بیروت میں فضائی حملے کے دوران ہلاک کر دیا ہے۔ منگل کے روز اسرائیلی فوج نے لبنان میں موجود ایرانی نظام کے نمائندوں کو عوامی سطح پر انتباہ جاری کیا تھا کہ اگر وہ 24 گھنٹوں کے اندر روانہ نہ ہوئے تو انہیں جہاں کہیں بھی پایا گیا، نشانہ بنایا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size