لبنان میں آپریشن م کے دوران پائلٹ رون آراد کی باقیات نہیں مل سکیں:اسرائیلی فوج کا اعتراف

اسرائیلی سیلر رون آراد کے طیارے کے گرنے اور اس کی گمشدگی کا قصہ تاریخ کے پیچیدہ ترین واقعات میں سے ایک ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

اسرائیلی فوج نے اعتراف کیا ہے کہ اس کی سپیشل فورسز نے گذشتہ جمعہ کو لاپتہ پائلٹ رون آراد سے متعلق شواہد کی تلاش میں ایک آپریشن کیا لیکن نشانہ بنائے گئے قبرستان سے اس کی باقیات برآمد نہیں ہو سکیں۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان اویخائی ادرعی نے ایکس پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ آپریشن کے دوران ہماری افواج میں کوئی جانی نقصان ریکارڈ نہیں کیا گیا۔ ادرعی نے مزید کہا کہ تلاشی کے مقام سے پائلٹ رون آراد سے متعلق کوئی بھی نشانات یا شواہد نہیں ملے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے رات گئے مشرقی لبنان کے علاقے بقاع میں واقع بستی ’نبی شیت‘ پر فضائی حملے کیے اور کمانڈو فورس اتاری۔ ایک اسرائیلی رپورٹ کے مطابق نبی شیت میں اترنے والی اسرائیلی فورس نے پائلٹ رون آراد کی تلاش میں وہاں سے کچھ انسانی باقیات جمع کی تھیں۔

فورس کی نقل و حرکت کا قبل از وقت پتہ چل جانے پر قابض اسرائیلی فضائیہ کو مجبوراً 40 سے زائد شدید فضائی حملے کرنے پڑے تاکہ اپنے فوجیوں کے وہاں سے انخلا کو یقینی بنایا جا سکے۔

مقامی ذرائع نے بتایا کہ حزب اللہ کے مجاہدین نے قبرستان کے علاقے میں پیش قدمی کرنے والی اسرائیلی فورس کے ساتھ سخت مقابلہ کیا جبکہ ارد گرد کے دیہات کے باسیوں نے بھی اسرائیلی فوج کے انخلا کے وقت فائرنگ کر کے مجاہدین کی بھرپور مدد کی۔

اسرائیلی ریڈیو نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ نبی شیت بستی میں فوج کے انزال (فوج اتارنے) کے آپریشن میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ سوشل میڈیا پر نبی شیت میں ’آل شکر‘ کے قبرستان کی ویڈیوز گردش کر رہی ہیں جہاں قابض اسرائیل نے لاپتہ پائلٹ رون آراد کی لاش کی تلاش میں آپریشن کیا تھا۔

اب تک کی جانے والی تمام تحقیقات اور کوششیں کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے میں ناکام رہی ہیں اور اس پائلٹ کی گمشدگی آج بھی ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔ معلومات کے مطابق جھڑپیں آمنے سامنے (زیرو ڈسٹنس) ہوئیں جو کہ انتہائی شدید تھیں۔ اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ اسرائیلی کمانڈوز کا پہلا ہدف بستی کا قبرستان تھا۔

اسرائیلی نشریاتی ادارے ’کان‘ نے بتایا کہ قابض اسرائیلی فوج نے گذشتہ رات لبنان کی گہرائی میں لاپتہ فوجی رون آراد کی باقیات کا سراغ لگانے کی کوشش کی۔ جبکہ اسرائیلی چینل 12 نے انکشاف کیا کہ چار ہیلی کاپٹروں نے آراد کی باقیات لانے کی کوشش میں سپیشل فورس کو وہاں اتارا تھا۔

موصولہ تصاویر سے بستی میں عمارتوں، گاڑیوں اور تجارتی مراکز میں ہونے والی وسیع پیمانے پر تباہی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

لبنان کی نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق نبی شیت میں ہونے والے اس ٹکراؤ کے نتیجے میں 26 افراد شہید ہوئے جن میں لبنانی فوج کے تین اہلکار اور سکیورٹی فورس کا ایک اہلکار شامل ہے جبکہ قابض اسرائیل نے اپنے جانی نقصان کو چھپا لیا ہے۔

حزب اللہ نے اسرائیلی کمانڈو کارروائی کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ گذشتہ جمعہ کی رات ساڑھے دس بجے شام شام کی سمت سے آنے والے 4 اسرائیلی ہیلی کاپٹروں کی نقل و حرکت دیکھی گئی جنہوں نے یحفوفا، الخریبہ اور معربون بستیوں کے مثلث پر پیادہ فوج اتاری۔

لبنان میں 3 لاکھ بے گھر افراد

حزب اللہ کے بیان کے مطابق اسرائیلی پیادہ فوج نبی شیت بستی کے مشرقی محلے (آل شکر محلہ) کی طرف بڑھی اور جب وہ رات ساڑھے گیارہ بجے قبرستان پہنچی تو وہاں موجود ایک گروپ نے ہلکے اور درمیانے ہتھیاروں سے ان پر حملہ کر دیا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ اسرائیلی فورس کا بھانڈا پھوٹنے کے بعد جھڑپیں تیز ہو گئیں جس پر اسرائیلی طیاروں نے فورس کو بچا کر نکالنے کے لیے علاقے پر تقریباً 40 بم گرائے کیے۔

رون آراد کون ہے؟

اسرائیلی نیوی سیلر رون آراد کے طیارے کے گرنے کی کہانی لبنان میں جاری کشمکش کی تاریخ کا ایک پیچیدہ باب ہے جس کی تفصیلات 16 اکتوبر سنہ 1986ء سے جڑی ہیں۔

طیارہ کیسے گرا؟

رون آراد کا F-4 فینٹم ٹو طیارہ کسی میزائل یا زمینی فائرنگ سے نہیں گرا تھا۔

اچانک تکنیکی خرابی

جنوبی لبنان کے علاقے صیدا میں بمباری کے مشن کے دوران ایک بم کو گراتے وقت اس کے والو میں خرابی پیدا ہوئی۔

قبل از وقت دھماکہ: بم طیارے سے الگ ہوتے ہی اس کے ڈھانچے کے بالکل قریب پھٹ گیا جس سے طیارے کو شدید نقصان پہنچا اور وہ قابو سے باہر ہو گیا۔

پیرا شوٹ سے چھلانگ: پائلٹ ’یشائی افیرام‘ اور ملاح ’رون آراد‘ فوری طور پر پیرا شوٹ کے ذریعے چھلانگ لگانے پر مجبور ہو گئے۔

پائلٹ اور ملاح کا انجام

پائلٹ (یشائی افیرام): ایک دشوار گزار علاقے میں چھپنے میں کامیاب رہا جسے ایک اسرائیلی کوبرا ہیلی کاپٹر نے ایک دلیرانہ آپریشن میں بچا لیا۔ وہ ہیلی کاپٹر کے بیرونی حصے کو پکڑ کر لٹک گیا اور وہاں سے نکلنے میں کامیاب رہا۔

ملاح (رون آراد): وہ امل موومنٹ کے زیر اثر علاقے میں گرا اور اسے مصطفیٰ الدیرانی کی قیادت میں ایک گروپ نے پکڑ لیا۔ اسے نامعلوم مقامات پر منتقل کیا گیا اور سنہ 1988ء کے بعد سے اس کی کوئی خبر نہیں ملی اور وہ ایک ایسا معمہ بن گیا جو آج تک حل نہیں ہو سکا۔

بستی ’نبی شیت‘ سے تعلق

بعد ازاں اسرائیلی انٹیلی جنس رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ آراد کو قید کے مختلف مراحل میں بقاع کی بستی نبی شیت منتقل کیا گیا تھا۔ یہاں تک کہ حالیہ اسرائیلی کارروائیاں (جیسا کہ سنہ 2025ء اور سنہ 2026ء کی رپورٹس میں ذکر ہے) اسی بستی میں اس کی ممکنہ باقیات کی تلاش میں کی گئی ہیں مگر اب تک کوئی یقینی نتیجہ برآمد نہیں ہو سکا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں