اسرائیل، امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے نویں روز تہران اور اس کے اطراف میں چار تیل کے گوداموں اور ایک لاجسٹک مرکز کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی قومی کمپنی برائے تیل مصنوعات کی تقسیم کے ڈائریکٹر جنرل کرامت ویس کرمی نے اتوار کے روز سرکاری ٹی وی سے گفتگو میں بتایا کہ دشمن کے طیاروں نے گزشتہ رات تہران کے وسطی علاقے اور البرز میں چار تیل کے گوداموں اور تیل مصنوعات کی ترسیل کے ایک مرکز کو نشانہ بنایا۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران کے پاس ایندھن کے وافر ذخائر موجود ہیں۔مزید بتایا گیا کہ اس حملے میں کمپنی کے چار ملازمین جاں بحق ہوئے جن میں دو ڈرائیور بھی شامل ہیں، جبکہ پانچوں تنصیبات کو نقصان پہنچا۔ تاہم حکام کے مطابق آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔
زہریلی تیزابی بارش کا خدشہ
فرانس پریس کے مطابق تہران میں آگ سے اٹھنے والا دھواں آج صبح تک شہر کی فضا میں چھایا رہا۔ایرانی ریڈ کریسنٹ نے خبردار کیا ہے کہ تیل کے ذخائر کے دھماکوں کی وجہ سے زہریلی تیزابی بارش پیدا ہونے کا خطرہ موجود ہے، جو عوام اور ماحول کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
اصفہان کا ہوائی اڈہ نشانہ
اصفہان میں گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران کئی فضائی حملوں کے بعد دھماکوں اور دھویں کے ستون بلند ہوتے دکھائی دیے، جیسا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرتی ویڈیوز میں دیکھا گیا۔اس دوران اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ اس نے اصفہان کے ہوائی اڈے پر حملے کیے ہیں۔
انبار نفت شهران همچنان در حال سوختن-یکشنبه صبح pic.twitter.com/XmSuw7DYk0
— TEHRANTO NEWS (@TehrantoNews) March 8, 2026
چھ ماہ تک جنگ کا دعوی
ٰایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ کم از کم چھ ماہ تک امریکہ اور اسرائیل کے خلاف شدید جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جیسا کہ خبر رساں ایجنسی فارس نے رپورٹ کیا۔
پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان علی محمد نائینی کے مطابق مسلح افواج موجودہ کارروائیوں کی رفتار کے ساتھ کم از کم چھ ماہ تک شدید جنگ جاری رکھ سکتی ہیں۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ اب تک ایران نے خطے میں 200 سے زائد امریکی اور اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
تل ابیب میں الارم بج اٹھا
اس دوران اسرائیل کے مختلف حصوں میں آج صبح میزائلزکے خطرے کے باعث الارم بج اٹھے، جنہیں ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کے طور پر رپورٹ کیا گیا، تاہم اب تک کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
اسرائیلی فوج کے مطابق فضائی دفاع نے تقریباً پانچ گھنٹوں کے دوران چار مختلف ایرانی میزائل حملوں کو ناکام بنایا۔
مزید برآں شمال، وسط اور جنوب اسرائیل کے بیشتر علاقوں میں الارم سسٹم فعال کیے گئے، خاص طور پر بڑے شہروں جیسے حیفا، تل ابیب اور بیئر شیبع میں اور شہریوں کو سیفٹی شیلٹر یا محفوظ مقامات پر جانے کی ہدایت کی گئی۔
بعد ازاں فوج نے اعلان کیا کہ شہری محفوظ علاقوں کو چھوڑ سکتے ہیں اور خطرہ کم ہو چکا ہے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب متعدد مبصرین کا خیال ہے کہ یہ تنازعہ مزید کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتا ہے، خاص طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد کہ حملے جاری رہیں گے اور تہران کو بلاشرط ہتھیار ڈالنے ہوں گے، جسے حالیہ دنوں میں کئی ایرانی حکام نے مسترد کیا ہے۔