عراق میں بریگیڈ حزب اللہ کے دو ارکان جمعرات کی شام دارالحکومت بغداد کے مضافات میں ایک فوجی اڈے پر ہونے والی بمباری میں جاں بحق ہو گئے۔ اس علاقے میں الحشد الشعبی کے مراکز واقع ہیں۔ بریگیڈ کے دو عہدیداروں نے یہ معلومات فراہم کیں۔ اے ایف پی کے مطابق ایک سکورٹی اہلکار نے انکشاف کیا کہ بغداد کے جنوب مغرب میں واقع اس بیس میں وفاقی پولیس کی فورسز اور الحشد الشعبی کے گروہ موجود ہیں۔
28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی شروع کردہ جنگ کے بعد سے الحشد الشعبی کے اڈوں میں ایران نواز گروہوں کے مراکز کو کئی بار نشانہ بنایا گیا ہے۔ جمعرات کا حملہ بغداد کے قریب اس نوعیت کے بیس پر ہونے والا پہلا حملہ ہے۔ عراقی ذرائع نے اس سے قبل جمعرات کو بتایا تھا کہ مغربی عراق میں شام کی سرحد پر واقع شہر القائم میں الحشد الشعبی کے ایک ہیڈ کوارٹر پر حملے میں تقریباً 20 افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں۔
’’ العربیہ/ الحدث ‘‘ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ بغداد سے تقریباً 400 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع القائم میں الحشد کی 19ویں بریگیڈ کا ہیڈ کوارٹر مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے۔
کرکوک میں حملہ
ملک کے شمالی شہر کرکوک میں ایک ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنانے والے حملے میں الحشد الشعبی کے کم از کم دو ارکان جاں بحق ہو گئے۔ کرکوک کے ایک سکیورٹی اہلکار نے بتایا کہ حملے میں الحشد کے کم از کم دو ارکان جاں بحق ہوئے اور وہاں آگ لگ گئی۔ یہ واقعہ اے ایف پی نے رپورٹ کیا۔
اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز شہر کے ایئرپورٹ کے قریب واقع اس مقام کے اطراف بڑی تعداد میں تعینات ہو گئی ہیں۔ 28 فروری کو ایران پر جنگ کے آغاز سے اب تک الحشد الشعبی کے اڈوں پر ایران نواز گروہوں کے مراکز کو نشانہ بنانے والے کئی حملوں میں ان گروہوں کے کم از کم 22 ارکان جاں بحق ہو چکے ہیں۔ یہ تعداد اے ایف پی نے ان گروہوں کے بیانات اور ذرائع کی بنیاد پر مرتب کی ہے۔
یہ حملے، جن کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ امریکہ نے کیے ہیں، ان گروہوں کے ٹھکانوں پر بھی ہوئے جو ’’ اسلامی مزاحمت عراق‘‘ ( المقاومة الإسلامية في العراق ) کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ اس تنظیم نے جنگ کے آغاز سے ہی عراق اور خطے میں امریکی اڈوں پر ڈرون اور میزائل حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔