اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز کہا کہ اس نے تہران میں ایک حملے میں دو سینئر ایرانی انٹیلی جنس اہلکاروں کو ہلاک کر دیا۔ انہوں نے چند ہی دن قبل ڈائریکٹوریٹ کے سابق سربراہ کی جگہ لی تھی جو 28 فروری کو امریکی-اسرائیلی حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔
اسرائیل نے کہا کہ عبداللہ جلالی-نسب اور امیر شریعت کے نام سے شناخت کردہ دو افراد ایرانی فوج کی مرکزی آپریشنز کمانڈ خاتم الانبیاء کے انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ کے سینئر اہلکار تھے۔
اسرائیلی فوج نے بتایا کہ جوڑے کو جمعہ کے روز ہلاک کیا گیا۔
فوج نے بتایا کہ انہوں نے خاتم الانبیاء میں انٹیلی جنس ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ صالح اسدی کی جگہ لی تھی جو جنگ کے پہلے دن ہلاک ہو گئے تھے۔
فوج نے کہا، "آپریشن Roaring Lion کے ابتدائی دھچکے کے دوران انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ صالح اسدی کا خاتمہ ہو جانے کے بعد جلالی اور شریعت کو قائم مقام سربراہان مقرر کیا گیا تھا۔"
"دونوں ایرانی دہشت گرد حکومت کی قیادت سے قربت رکھتے تھے،" فوج نے مزید کہا اور بتایا کہ خاتم الانبیاء ایمرجنسی کمانڈ کی انٹیلی جنس شاخ انٹیلی جنس کا تجزیہ کرنے کی ذمہ دار ہے۔
نیز کہا، "ایران کے سکیورٹی سسٹم میں حالات کے بکثرت تجزیوں کے دوران اعلیٰ حکام کو انٹیلی جنس معلومات پیش کی جاتی ہیں جن کی بنیاد پر ریاست اسرائیل کے خلاف جنگ ہوتی ہے۔"
فوج نے کہا ہے کہ 28 فروری کو امریکہ کے ہمراہ شروع کردہ حملوں کی ابتدائی لہر میں کئی اعلیٰ ایرانی اہلکار بشمول رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای ہلاک ہو گئے۔
-
لبنان میں ایرانی قدس فورس کے 7 سینیئر کمانڈروں کو ہلاک کرنے کا اسرائیلی دعویٰ
قدس فورس کے 20 میں سے 17 مال بردار طیارے بھی تباہ کر دیے گئے:اسرائیلی عہدیدار کا ...
بين الاقوامى -
ایران جنگ کے دوران مغربی کنارہ میں اسرائیلی آباد کاروں کے فلسطینیوں پر حملوں میں شدت
فلسطینی وزارت صحت کے مطابق ماہِ رواں کے آغاز سے اب تک چھ فلسطینی آباد کاروں کی ...
مشرق وسطی -
ایرانی جزیرہ خارگ کے بارے میں ٹرمپ کے چار دہائیاں پرانے ریمارکس
امریکی صدر نے سنہ 1988ء میں کہا تھا کہ امریکیوں پر کسی بھی حملے کا جواب خارک پر ...
بين الاقوامى