ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پیر کے روز اس بات کی تردید کی کہ ایران نے امریکا کے ساتھ کسی قسم کے پیغامات کا تبادلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تہران جنگ کو آخر تک جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔عراقچی نے زور دے کر کہا کہ ایران نے کبھی جنگ بندی کی درخواست نہیں کی اور ان کے بقول جنگ ایسے طریقے سے ختم ہونی چاہیے کہ دوبارہ پیش نہ آئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز صرف دشمنوں اور ان کے حامیوں کے لیے بند ہے۔ ان کے مطابق امریکا نے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کے لیے اپنی تمام تر قوت جمع کی اور وسیع حملے کیے، مگر اب تقریباً 15 دن گزرنے کے بعد وہ دیگر ممالک سے آبنائے ہرمز کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے مدد مانگ رہا ہے تاکہ یہ راستہ کھلا رہے۔
عراقچی کے مطابق آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہے، البتہ یہ صرف ایران کے دشمنوں اور ان لوگوں کے لیے بند ہے، جنہوں نے ایران پر حملہ کیا۔
Israel's bombings of fuel depots in Tehran violate international law and constitute ecocide.
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) March 16, 2026
Residents face long-term damage to their health and well-being. Contamination of soil and groundwater could have generational impacts.
Israel must be punished for its war crimes. pic.twitter.com/K9bU57ZBTC
اس سے قبل آج ہی عراقچی نے کہا تھا کہ تہران میں ایندھن کے ذخائر کو نشانہ بنانا اسرائیل کی جانب سے کیا جانے والا جنگی جرم ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایندھن کے ذخائر پر حملہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ اسرائیل کی جانب سے تہران کے ایندھن کے گوداموں پر بمباری بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور ماحولیاتی تباہی کے مترادف ہے۔
ان کے مطابق اس سے شہریوں کی صحت اور سلامتی کو طویل مدتی نقصان پہنچ سکتا ہے جبکہ مٹی اور زیرِ زمین پانی کی آلودگی کے اثرات کئی نسلوں تک جاری رہ سکتے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل کو اس کے جنگی جرائم پر سزا دی جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی مسلح افواج اس وقت تک لڑتی رہیں گی ،جب تک امریکی صدر کو یہ احساس نہ ہو جائے کہ یہ غیر قانونی جنگ، جو انہوں نے امریکیوں اور ایرانیوں دونوں پر مسلط کی ہے، غلط ہے اور اسے دوبارہ نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے متاثرین کو معاوضہ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔اتوار کے روز بھی عراقچی نے کہا تھا کہ ایران واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات میں دلچسپی نہیں رکھتا۔
Told CBS: Iran has neither sought a truce nor talks. Such claims are delusional.
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) March 15, 2026
Our Powerful Armed Forces will keep firing until POTUS realizes that illegal war he's imposing on both Americans and Iranians is wrong and must never be repeated. Victims must also be compensated. pic.twitter.com/vWliAFCAbp
یہ بات انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے جواب میں کہی تھی، جس میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران جنگ ختم کرنے کے لیے معاہدہ چاہتا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عراقچی نے کہا کہ ایران مضبوط اور مستحکم ہے اور وہ صرف اپنے عوام کا دفاع کر رہا ہے۔
ان کے مطابق ایران کو امریکا سے بات چیت کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی کیونکہ جب مذاکرات جاری تھے تو امریکا نے حملہ کر دیا، اور ایسا دوسری بار ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے کبھی امریکا سے جنگ بندی کی درخواست نہیں کی اور نہ ہی مذاکرات کی۔ ان کے بقول ایران جتنا بھی وقت لگے اپنے دفاع کے لیے تیار ہے۔
تاہم عراقچی نے واضح کیا کہ ایران ہر اس اقدام کا خیر مقدم کرے گا، جو جنگ کے مکمل خاتمے کا باعث بنے۔
انہوں نے بتایا کہ قطر، سعودی عرب، عمان اور دیگر ہمسایہ ممالک کے ساتھ سفارتی رابطے جاری ہیں۔ ان کے مطابق جنگ اس وقت ختم ہوگی، جب ایران کو یقین ہو جائے گا کہ یہ دوبارہ نہیں دہرائی جائے گی۔
-
ٹرمپ جزیرہ کرج میں ایرانی تیل پر قبضے پر غور کر رہے ہیں : رپورٹ
برطانوی بحری تجارتی آپریشنز اتھارٹی کے مطابق آبنائے ہرمز میں خطرہ اب بھی برقرار ہے
مشرق وسطی -
ایران کے مرحوم سپریم لیڈر کے زیرِ استعمال طیارہ تباہ کر دیا: اسرائیل
اسرائیلی فوج نے پیر کے روز کہا ہے کہ اس نے تہران کے مہرآباد ایئرپورٹ پر ایران کے ...
مشرق وسطی -
ایران کی یو ایس ایس فورڈ کو دھمکیاں: رپورٹ
ایرانی مسلح افواج کی متحد کمان خاتم الانبیاء کے ترجمان نے پیر کے روز کہا ہے کہ ...
بين الاقوامى