ایران سے فائر راکٹوں کے ٹکڑے القدس میں گرے ہیں: اسرائیلی پولیس

اسرائیلی اور امریکی لڑاکا طیاروں کے تہران اور کرج پر حملے، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز فورڈ کے سپورٹ سینٹرز ہمارے اہداف ہیں: ایرانی فوج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 7 منٹ

ایران میں جنگ کے تیسرے ہفتے کے آغاز کے ساتھ ہی پیر کے روز القدس میں دھماکے سنائی دیے۔ اسرائیلی فوج نے ایران سے راکٹ داغے جانے کی اطلاع دی ہے۔ اسرائیلی پولیس نے پیر کو اعلان کیا کہ ایران سے راکٹ فائر کیے جانے کے بعد القدس میں مقدس مقامات مسجد اقصیٰ کے صحنوں اور چرچ آف دی ہولی سیپلکر (کلیسائے قیامت) پر حملہ آور اور دفاعی راکٹوں کے ٹکڑے گرے ہیں۔

پولیس نے مقدس مقامات پر کسی نقصان کی اطلاع نہیں دی تاہم مقبوضہ مشرقی القدس کے علاقے راس العمود میں صحافیوں نے ایک رہائشی عمارت دیکھی جسے راکٹ کے ٹکڑے لگے تھے۔ تقریباً ایک میٹر قطر اور کئی میٹر لمبی ایک سلنڈر نما چیز تین منزلہ عمارت کی چھت سے باہر نکلی ہوئی تھی۔

پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ ایران سے القدس کی طرف داغے گئے راکٹوں کی آخری کھیپ کے دوران شہر کے اوپر کئی دفاعی کارروائیاں کی گئیں۔ اس کے نتیجے میں پولیس فورسز کو قدیم شہر کے اندر کئی مقامات پر حملہ آور راکٹوں کے ٹکڑے اور دفاعی راکٹوں کا ملبہ ملا ہے جن میں سے کچھ بڑے سائز کے بھی ہیں۔ پولیس نے واضح کیا کہ دوسرے مقامات جہاں حملہ آور یا دفاعی راکٹوں کے ٹکڑے گرے وہ وسطی اور مشرقی القدس میں پائے گئے ہیں۔

دریں اثنا ایران کے شہروں پر امریکی اور اسرائیلی بمباری پیر کو بھی جاری رہی اور اسرائیلی و امریکی لڑاکا طیاروں نے ایرانی دارالحکومت تہران اور صوبہ کرج کے مختلف حصوں میں درجنوں پوائنٹس پر نئے حملوں کا سلسلہ شروع کیا۔ اس دوران ایران نے اسرائیل اور پڑوسی ملکوں پر راکٹ داغ کر جواب دیا۔ اسرائیلی فوج نے تہران، شیراز اور تبریز میں ایرانی حکومتی اہداف کے خلاف وسیع پیمانے پر حملے شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ فوج نے ایک مختصر بیان میں کہا کہ اس نے تہران، شیراز اور تبریز میں ایرانی حکومت کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بناتے ہوئے وسیع پیمانے پر حملوں کا سلسلہ شروع کیا ہے۔

ایرانی دارالحکومت تہران میں دھماکے سنائی دیے۔ یہ دھماکے اسرائیل کے اس اعلان کے چند گھنٹے بعد ہوئے کہ اس نے رات کے وقت بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے ہیں۔ ایران میں فضائی دفاعی نظام کو فعال کر دیا گیا ہے تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ کن مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایرانی میڈیا نے تہران کے شمال میں جماران کے علاقے پر بمباری اور تہران میں باقری ہائی وے کو نشانہ بنانے والے حملے کی اطلاع دی ہے۔

دوسری جانب ’’ العربیہ ‘‘ اور ’’ الحدث ‘‘ کے نمائندے نے تل ابیب اور وسطی اسرائیل میں سائرن بجنے کی اطلاع دی ہے۔ ادھر اسرائیلی فوجی ریڈیو نے تل ابیب کے کئی مقامات پر راکٹ کے ٹکڑے گرنے کی اطلاع دی۔ اسرائیلی فوج نے ایران سے راکٹ داغے جانے کا سراغ لگانے کا اعلان کیا جبکہ اسرائیلی اخبار ’’ ہیوم فرنٹ‘‘ نے جنوبی ساحل کی طرف ایرانی راکٹوں کی فائرنگ کا پتہ چلنے کی تصدیق کی۔

اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے تہران کے مہر آباد ہوائی اڈے پر خامنہ ای کے زیر استعمال ایک طیارے کو تباہ کر دیا ہے۔ دوسری طرف ایرانی فوج نے اعلان کیا ہے کہ بحرِ احمر میں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز فورڈ کے سپورٹ سینٹرز ہمارے اہداف ہیں۔ امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں ایران میں فضائی اور بحری اڈوں اور فوجی مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ ان مقامات میں دزفول میں چوتھا فضائی اڈہ، بندر عباس میں نواں فضائی اڈہ اور بندر جاسک میں دوسرا بحری اڈہ شامل ہیں۔ ان حملوں میں تہران کا مہر آباد ہوائی اڈہ، بوشہر میں گولہ بارود کے گودام اور ہمدان میں پاسداران انقلاب اور بسیج کے صدر دفاتر بھی متاثر ہوئے۔

اس کے مقابلے میں ایران نے اسرائیل اور مرکزی علاقے کی طرف راکٹوں اور ڈرونز کی سات کھیپیں فائر کیں۔ راکٹوں اور ڈرونز کے کچھ حصے تل ابیب اور وسطی علاقے میں گرے۔ ایرانی دارالحکومت تہران نے شدید حملوں کا مشاہدہ کیا۔ دھماکوں نے تہران کو لرزا دیا اور ان حملوں میں تہران ٹاور کے گردونواح اور مہر آباد ہوائی اڈے کے گردونواح سمیت کئی مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ ریجن 22 میں ایک ریسرچ سینٹرکے گردونواح سے دھویں کے بادل شدت سے اٹھتے ہوئے دیکھے گئے۔ ایرانی میڈیا نے تہران میں ایندھن کے سٹیشنوں اور تنصیبات کو اسرائیل کی جانب سے نشانہ بنانے کی بھی اطلاع دی ہے۔ بمباری میں تہران کے مغرب میں واقع علاقے تہرانسرکو بھی نشانہ بنایا گیا ۔ یہ ایک ایسا علاقہ ہے جہاں پولیس سٹیشن اور ڈرونز بنانے والی فیکٹری موجود ہے۔

اس منظر نامے کے دوران اسرائیلی چینل 12 نے اطلاع دی ہے کہ سکیورٹی ادارے نے کم از کم 3 ہفتوں کے جنگی منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ اس سے قبل اسرائیلی فوج نے فضائی حملوں کی ایک وسیع لہر شروع کرنے کا اعلان کیا تھا جس میں تہران اور ایران کے کئی دیگر شہروں میں بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

اپنے حالیہ بیانات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے داغے جانے والے راکٹوں میں کمی کی تصدیق کی اور ان کی رائے میں اس کی وجہ امریکی حملے ہیں۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ واشنگٹن آبنائے ہرمز کی حفاظت کے حوالے سے مختلف ملکوں کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اس آبنائے سے بے نیاز ہے اور وہاں سے گزرنے والے تیل کی ترسیل کا بہت کم حصہ حاصل کرتا ہے۔

ایران پر امریکی اسرائیلی جنگ کے تیسرے ہفتے میں مشرق وسطیٰ اور عالمی توانائی کی منڈیوں میں بے چینی جاری رہنے کے دوران ٹرمپ نے اتوار کو کہا تھا کہ جو ممالک خلیج کے تیل پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں وہ اس آبنائے کی حفاظت کی ذمہ داری اٹھائیں۔ یاد رہے عالمی توانائی کا 20 فیصد آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔

ٹرمپ نے مزید کہا تھا کہ ان کی انتظامیہ نے پہلے ہی سات ممالک سے رابطہ کیا ہے تاہم انہوں نے ان ممالک کے نام نہیں بتائے۔ ہفتے کے آغاز میں سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں انہوں نے امید ظاہر کی کہ چین، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا، برطانیہ اور دیگر ممالک اس میں حصہ لیں گے۔ ٹرمپ نے آبنائے کی حفاظت میں مدد کے لیے یورپی اتحادیوں پر دباؤ بڑھایا اور خبردار کیا کہ اگر نیٹو کے ارکان نے واشنگٹن کی مدد نہ کی تو اسے انتہائی برے مستقبل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ سفارت کاروں اور عہدیداروں نے کہا تھا کہ یورپی یونین کے وزرائے خارجہ مشرق وسطیٰ میں ایک چھوٹے بحری مشن کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں تاہم ان سے یہ توقع نہیں ہے کہ وہ بند ہوئی آبنائے ہرمز تک اس کے کردار کو وسعت دینے کا کوئی فیصلہ کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں