حزب اللہ کا شمالی اسرائیل کے شہر نہاریہ پر راکٹوں اور ڈرونز سے حملہ

جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک دس لاکھ سے زیادہ افراد کی نقل مکانی ریکارڈ کی گئی ہے: لبنان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 7 منٹ

حزب اللہ نے پیر کے روز اعلان کیا ہے کہ اس نے شمالی اسرائیل کے شہر نہاریہ پر راکٹوں اور ڈرونز سے حملہ کیا ہے جہاں طبی عملے نے ایک شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع دی ہے۔ حزب اللہ نے ایک بیان میں کہا کہ اسلامی مزاحمت کی جانب سے نہاریہ کو دی گئی وارننگ کے فریم ورک کے تحت، اس کے جنگجوؤں نے اسے راکٹوں اور خودکش ڈرونز کی بوچھاڑ سے نشانہ بنایا۔

اسرائیلی ایمرجنسی سروس "میگن ڈیوڈ ایڈم" نے بتایا ہے کہ شہر میں اس کا طبی عملہ ایک ایسے شخص کا علاج کر رہا ہے جس کی حالت معمولی سے درمیانی ہے اور وہ دھماکے کے نتیجے میں لگنے والے زخموں کا شکار ہوا ہے۔ طبی کارکن یوناتان ایویلیا نے ایک بیان میں کہا کہ یہ دھماکہ دو عمارتوں کے درمیان لگنے والے ایک راکٹ کے نتیجے میں ہوا جس سے بڑی آگ لگ گئی۔

ایمرجنسی سروس نے مزید بتایا کہ طبی عملے نے دم گھٹنے کی کیفیت کا شکار ہونے والے 6 افراد جن میں دو لڑکیاں اور چار بڑے افراد شامل تھے کو بھی طبی امداد فراہم کی۔ اسرائیل کے سرکاری نشریاتی ادارے ’’ کان ‘‘ نے فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ یہ نقصان ایک حملہ آور راکٹ کی وجہ سے ہوا ہے نہ کہ اسرائیل کے دفاعی راکٹ کی وجہ سے۔ اس طرح ادارے نے گزشتہ میڈیا رپورٹس کی تردید کر دی۔

لبنان میں دس لاکھ افراد بے گھر

دوسری جانب لبنانی حکام نے پیر کے روز اعلان کیا ہے کہ 2 مارچ سے حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک دس لاکھ سے زیادہ بے گھر افراد ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ تل ابیب کی جانب سے جنوبی لبنان، مشرقی لبنان اور بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں پر فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ حکومت کے "ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ یونٹ" نے اپنی روزانہ کی رپورٹ میں بتایا ہے کہ خود کو رجسٹر کرانے والے بے گھر افراد کی کل تعداد 1,049,328 ہو گئٍ ہے۔ ان بے گھر ہونے والوں میں سے ایک لاکھ 32 ہزار سے زیادہ افراد 622 پناہ گاہوں میں مقیم ہیں۔

لبنان میں 886 اموات

لبنانی وزارت صحت کی جانب سے پیر کو جاری نئے اعداد و شمار کے مطابق اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان دو ہفتے قبل شروع ہونے والی جنگ کے دوران لبنان میں کم از کم 886 افراد جاں بحق ہوئے ہیں جن میں 111 بچے شامل ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں صحت کے شعبے کے 38 کارکن بھی شامل ہیں۔ فرانس پریس کے مطابق اتوار کو موصول ہونے والے سابق اعداد و شمار میں 2 مارچ کو شروع ہونے والی جنگ میں 850 افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی گئی تھی۔

ترکیہ کی مذمت

دوسری جانب ترکیہ نے پیر کے روز لبنان میں اسرائیلی فوج کی زمینی کارروائیوں کی شدید مذمت کی اور مشرق وسطیٰ میں ایک نئی انسانی تباہی سے خبردار کیا ہے۔ ترک وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ہم لبنان میں اسرائیل کی زمینی کارروائی کی سخت مذمت کرتے ہیں جو خطے میں عدم استحکام کو مزید بڑھا رہی ہے۔

وزارت نے کہا کہ نیتن یاہو حکومت کی نسل کشی اور اجتماعی سزا کی پالیسیوں کا نفاذ، جو اس بار لبنان میں ہو رہا ہے، خطے میں ایک نئی انسانی تباہی کا باعث بن جائے گا۔

اسرائیلی زمینی کارروائی

ایک سابق پیش رفت میں اسرائیلی فوج نے پیر کے روز اعلان کیا تھا کہ اس نے حالیہ دنوں میں جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے خلاف ایک ایسی سرگرمی شروع کی ہے۔ اس کارروائی کو اسرائیلی فوج نے محدود زمینی سرگرمی قرار دیا ہے۔

فوج نے ایک بیان میں کہا کہ 91 ویں ڈویژن کی افواج نے حالیہ دنوں میں جنوبی لبنان میں اہم مقامات کو نشانہ بناتے ہوئے ایک محدود زمینی سرگرمی شروع کی ہے جس کا مقصد دفاعی علاقے کے دائرہ کار کو وسعت دینا ہے۔

پلیٹ فارم ’’ ایکس‘‘پر اسرائیلی فوج کی جانب سے شائع کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد خطرات کو دور کرنا اور شمالی علاقوں کے رہائشیوں کے لیے اضافی حفاظتی تہہ بنانا ہے۔

اسرائیلی براڈکاسٹنگ اتھارٹی نے اتوار کو اطلاع دی تھی کہ اسرائیلی حکومت 4 لاکھ 50 ہزار تک ریزرو فوجیوں کی نقل و حرکت کی منظوری طلب کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ یہ قدم بڑھتے ہوئے تناؤ اور جنوبی لبنان میں ممکنہ زمینی فوجی آپریشن کی رپورٹس کے درمیان اٹھایا گیا ہے۔ اتھارٹی نے بتایا کہ یہ درخواست اسرائیلی فوج اور سکیورٹی ادارے کی سفارش پر کی گئی ہے تاکہ شمالی محاذ پر ہونے والی پیش رفت سے نمٹنے کے لیے زیادہ سے زیادہ آمادگی کو یقینی بنایا جا سکے۔

اتھارٹی نے مزید کہا کہ توقع ہے کہ حکومت اور کنیسٹ کی خارجہ اور سکیورٹی کمیٹی بڑے پیمانے پر بھرتی کے احکامات کی توثیق پر بحث کے لیے جلد ملاقاتیں کریں گی۔ اسی تناظر میں اتھارٹی نے اطلاع دی کہ اسرائیل امریکی انتظامیہ کے ساتھ جنوبی لبنان میں ’’ بفر زون ‘‘ کو وسعت دینے کی تجویز پر بات چیت کر رہا ہے۔

نشریاتی ادارے نے بتایا کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے فوجی قیادت سے لبنان میں ممکنہ شہری اہداف کی فہرست پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ادارے کے مطابق اس اقدام کا مقصد لبنانی حکومت پر دباؤ ڈالنا ہے تاکہ اسے حزب اللہ کے خلاف کارروائی کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔ اسرائیل نے اتوار کی شام بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے پر فضائی حملہ کیا تھا۔

یاد رہے اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ شہر میں حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہی ہے۔ صہیونی فوج نے اس سے قبل کے حملوں میں بنیادی طور پر ملک کے جنوبی حصوں کو نشانہ بنایا تھا۔

جنگ شروع ہونے کے دو ہفتے بعد بھی اسرائیل لبنان کے کئی علاقوں پر فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہے اور اپنی افواج کو سرحد کے ساتھ واقع جنوبی علاقوں کی طرف دھکیل رہا ہے۔ حزب اللہ نے تل ابیب کے جنوب میں ایک فوجی اڈے پر راکٹ داغنے کا اعلان کیا ہے اور اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس کے ارکان اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ جھڑپوں میں مصروف ہیں۔ جنوبی مضافاتی علاقے کے زیادہ تر باشندے نقل مکانی کر چکے ہیں اور ان میں سے بہت سے بیروت کے ساحلوں پر سڑکوں پر یا شہر کے اندر کھلے آسمان تلے یا ان خیموں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ یہ خیمے اتوار کو بیروت میں ہونے والی موسلادھار بارش سے بھیگ گئے تھے۔

مشرق وسطیٰ میں جنگ 2 مارچ کو اس وقت لبنان تک پہنچ گئی جب حزب اللہ نے امریکی اسرائیلی حملے کے پہلے دن ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے قتل کے جواب میں اسرائیل پر راکٹ داغے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں