علی لاریجانی کی جگہ ... محمد باقر ذو القدر سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نئے سکریٹری جنرل

وہ اس سے قبل ایرانی پاسداران انقلاب میں قیادت کے عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ایرانی ایوانِ صدارت نے علی لاریجانی کی جگہ محمد باقر ذو القدر کو ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا نیا سکریٹری جنرل مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ایرانی صدارت میں تعلقات عامہ کے دفتر کے سربراہ محمد مہدی طبطبائی نے ایک صدارتی فرمان کے تحت اسلامی جمہوریہ میں سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نئے سکریٹری جنرل کے طور پر محمد باقر ذو القدر کے تقرر کا اعلان کیا۔

طبطبائی نے "ایکس" پلیٹ فارم پر اپنی پوسٹ میں لکھا "رہبر اعلیٰ انقلاب اسلامی کی منظوری اور صدارتی فرمان کے مطابق، محمد باقر ذو القدر کو سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا سکریٹری جنرل مقرر کر دیا گیا ہے"۔

یاد رہے کہ محمد باقر ذو القدر اس سے قبل ایرانی پاسداران انقلاب میں قائدانہ عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔ انہوں نے مجمع تشخیص مصلحت نظام کے سکریٹری کا عہدہ بھی سنبھالا تھا۔

اس سے قبل ایرانی "مستضعفین" فاؤنڈیشن نے سابق وزیر دفاع حسین دہقان (فاؤنڈیشن کے صدر) کے علی لاریجانی کی جگہ سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سکریٹری مقرر ہونے کے بارے میں گردش کرنے والی خبروں کی تردید کی تھی۔ لاریجانی ایک اسرائیلی حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

تسنیم نیوز ایجنسی نے فاؤنڈیشن کے بیان کے حوالے سے بتایا ہے کہ "پچھلے چند گھنٹوں کے دوران بعض میڈیا ذرائع نے حسین دہقان کو سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا سکریٹری جنرل مقرر کیے جانے کی خبر شائع کی ہے، تاہم یہ معلومات درست نہیں ہیں"۔

روسی ایجنسی "تاس" نے ذکر کیا تھا کہ ایران کے سابق وزیر دفاع حسین دہقان کو علی لاریجانی کی جگہ ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا سکیرٹری مقرر کیا گیا ہے۔ لاریجانی کو اسرائیل نے تہران میں قتل کر دیا تھا۔

ایرانی حکام نے 17 مارچ کو ایک اسرائیلی-امریکی حملے کے نتیجے میں سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سکریٹری علی لاریجانی کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔ 18 مارچ کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا کہ لاریجانی کی موت سیاسی نظام کے استحکام پر اثر انداز نہیں ہوگی۔

لاریجانی کا تعلق ملک کے ممتاز مذہبی خاندانوں میں سے ایک سے ہے اور ان کے بھائیوں نے 1979 کے انقلاب کے بعد اعلیٰ عہدوں پر کام کیا۔

انھیں ایک ماہر سیاست دان اور عملی انسان کے طور پر دیکھا جاتا تھا، لیکن وہ ساتھ ہی ملک میں نظام حکومت کے تحفظ کے لیے بھی انتہائی محتاط رہتے تھے۔

علاوہ ازیں لاریجانی نے ایران عراق جنگ کے دوران پاسداران انقلاب کے ایک کمانڈر کے طور پر کام کیا، جس کے بعد انہوں نے ریڈیو اور ٹیلی ویژن اتھارٹی کی سربراہی سنبھالی۔ بعد ازاں سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی سربراہی کی اور ان کا پارلیمانی سفر 12 سال تک پارلیمنٹ کے اسپیکر رہنے پر ختم ہوا۔

لاریجانی نے وسیع ذمہ داریاں سنبھالیں جن میں مغرب کے ساتھ ایٹمی مذاکرات، خطے میں تہران کے تعلقات کا انتظام اور داخلی بد امنی کو کچلنے جیسے حساس معاملات شامل تھے۔

مقتول رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کے مطلق کنٹرول کے ساتھ اپنی ثابت قدم وابستگی کے باوجود، لاریجانی نے سخت گیر دھڑے کی دیگر شخصیات کے مقابلے میں زیادہ محتاط نقطہ نظر اختیار کرنے کی دعوت دی۔ وہ کبھی کبھی سفارت کاری کے ذریعے ایران کے اہداف حاصل کرنے اور اندرونی اپوزیشن کے ساتھ نرم لہجے میں نمٹنے کی طرف مائل تھے۔

روئٹرز کے مطابق رپورٹس میں اشارہ کیا گیا ہے کہ لاریجانی نے گذشتہ جنوری میں ہونے والے بڑے احتجاجی مظاہروں کو دبانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ اس کے نتیجے میں ہزاروں مظاہرین ہلاک ہوئے، جس کی وجہ سے واشنگٹن نے گذشتہ ماہ ان پر پابندیاں عائد کی تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں