اسرائیل کی بیروت کے مشرق میں بمباری، قدس فورس کے رکن کو نشانہ بنانے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

جبل لبنان صوبے میں بعبدا کے علاقے الحازمیہ (مشرقی بیروت) میں ’’ مار تقلا ‘‘ محلے کے ایک اپارٹمنٹ کو اسرائیلی حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ اس ماہ میں اس علاقے پر دوسرا حملہ ہے۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان اوفیخائی ادرعی نے آج پیر کے روز 'ایکس' پر ایک پوسٹ میں اعلان کیا کہ فوج نے بیروت میں قدس فورس کے یونٹ سے تعلق رکھنے والے ایک دہشت گرد پر حملہ کیا ہے۔

دوسری جانب ’’ العربیہ / الحدث ‘‘ کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ جس اپارٹمنٹ کو نشانہ بنایا گیا اس میں ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کا ایک رکن موجود تھا اور یہ اپارٹمنٹ ایک بینکر کی ملکیت ہے۔ لبنانی وزارت صحت کے مطابق الحازمیہ میں اپارٹمنٹ پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں ابتدائی طور پر ایک شخص کی ہلاکت کی اطلاع ملی ہے۔

واضح رہے دارالحکومت بیروت کے قریب واقع الحازمیہ کو مارچ کے پہلے ہفتے میں بھی ایک حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا جس میں ’’ کنفورٹ ہوٹل ‘‘ کو ہدف بنایا گیا جہاں جنوبی لبنان اور بیروت کے جنوبی ضاحیہ سے تعلق رکھنے والے بے گھر افراد مقیم تھے۔

جنوب میں پلوں پر بمباری

اسرائیل نے آج صبح جنوبی لبنان کے ضلع نبطیہ میں قعقعیہ پل پر بمباری کی جس سے وہ مکمل طور پر کٹ گیا۔ اس کے علاوہ دلافہ پل کو بھی نشانہ بنایا گیا جو حاصبیا مرجعیون کے علاقوں کو جزین- شوف اور مغربی بقاع کے علاقوں سے ملاتا ہے۔ یہ کارروائی لیطانی دریا پر واقع پلوں اور گزرگاہوں کو نشانہ بنانے کی منظم مہم کا حصہ ہے۔ اس سے قبل الزراریہ پل کو بھی نشانہ بنایا گیا جو ساحلی علاقوں (خصوصاً صور اور صیدا شہروں) کو جنوبی دیہی علاقوں سے ملاتا ہے۔ مزید برآں قاسمية پل پر بھی حملہ کیا گیا جو ساحلی شاہراہ پر واقع ہے اور بیروت، صیدا اور صور کو آپس میں جوڑتا ہے۔

جنوب کے کئی شہروں اور علاقوں پر اسرائیلی حملے آج دن بھر جاری رہے جس کے جواب میں حزب اللہ نے شمالی اسرائیل کی جانب راکٹ اور ڈرون فائر کیے۔ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان چھڑنے والی جنگ 2 مارچ کو لبنان تک پہنچ گئی تھی۔ جب حزب اللہ نے ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت کے ردعمل میں جنوب سے شمالی اسرائیل کی جانب راکٹ اور ڈرون داغے تھے۔ اسرائیل نے جواب میں بیروت کے جنوبی ضاحیہ، دارالحکومت کے وسطی علاقوں کے علاوہ ملک کے جنوبی اور مشرقی حصوں پر شدید اور پرتشدد حملے کیے اور اس کی افواج جنوب کے نئے علاقوں میں داخل ہو گئیں۔

لبنانی حکام کے مطابق اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں اب تک بچوں سمیت 1000 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ بے گھر افراد کی تعداد 10 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جن میں سے ایک لاکھ 30 ہزار سے زیادہ افراد 600 سے زیادہ اجتماعی پناہ گاہوں میں مقیم ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں