سعودی فضائی دفاع نے مشرقی علاقے کی جانب آنے والے ایک بیلسٹک میزائل کو ناکام بنا دیا، جبکہ چند گھنٹوں کے دوران تقریباً 24 ڈرونز بھی تباہ کر دیے گئے۔
یہ کارروائی مملکت کے خلاف حالیہ ایرانی حملوں کی ایک نئی لہر کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔
إحصائية العربية..
— العربية السعودية (@AlArabiya_KSA) March 21, 2026
أكثر من 4911 صاروخ وطائرة مسيّرة إيرانية استهدفت دول #الخليج مقابل 850 صاروخًا على #إسرائيل pic.twitter.com/q5m5ZzqyPU
ایک ذمہ دار سعودی ذرائع نے ''العربیہ'' سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اس سے قبل واضح کر چکے ہیں کہ ایران کی جارحیت کو رکنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ مملکت پہلے ہی اس بات کی تصدیق کر چکی ہے کہ وہ ایرانی جارحیت کو روکنے کے لیے سیاسی اور دیگر اقدامات کے ذریعے جواب دینے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔
سعودی ذرائع نے مزید زور دیا کہ مملکت کے صبر کی بھی ایک حد ہے اور یہ بھی واضح کیا کہ ریاض اس سے قبل ان متعدد دعوؤں کی تردید کر چکا ہے کہ اس کی قیادت جنگ کو طول دینا چاہتی ہے۔
إحصائية العربية: تطلق 15% فقط باتجاه إسرائيل.. إيران تستهدف دول الخليج بـ85% من هجماتها بالصواريخ والمسيرات pic.twitter.com/FM0TV995XR
— العربية السعودية (@AlArabiya_KSA) March 24, 2026
ادھر سعودی فضائی دفاع نے گزشتہ روز بھی مشرقی علاقے کی طرف آنے والے 30 دشمن ڈرونز کو ناکام بنایا تھا۔مملکت نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری، سلامتی، سرزمین اور فضائی حدود کے تحفظ نیز اپنے شہریوں، مقیم افراد اور مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کرنے سے گریز نہیں کرے گی اوراسے یہ حق اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 کے تحت حاصل ہے۔