ایران میں جنگ کے اثرات کورونا 19 کی طرح دنیا کےلیے سنگین ہوں گے : پیوٹن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے ایران میں جاری امریکی و اسرائیلی جنگ کے پھیلاؤ اور طوالت کے باعث بڑھتی چلی جانے والی تباہی کو دنیا کے لیے آنے والے دنوں میں ایک بڑے مسئلے سے تعبیر کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی اس جنگ کے اثرات دنیا کے لیے حالیہ برسوں میں پھیلنے والی عالمی وبا کورونا 19 کی طرح انتہائی گہرے اور سنگین ہو سکتے ہیں۔

پیوٹن نے کہا اس پھیلنے کے خدشات کے ساتھ جاری جنگ کے بین الاقوامی سطح پر لاجسٹکس اور نقل و حمل پر نمایاں اثرات ہوں گے اور بہت زیادہ نقصان ہوگا۔ نقل و حمل کے علاوہ پیداوار اور اشیاء کی فراہمی کے امور میں غیر معمولی دقتیں ہوں گی نیز ہائیڈرو کاربن کے حوالے سے بھی دباؤ بڑھے گا۔ کھاد بنانے والی کمپنیاں متاثر ہوں گی، کھادوں کی ترسیل اور قیمتیں متاثر ہوں گی اور اجناس کی پیداوار پر منفی اثرات آئیں گے۔

انہوں نے ماسکو میں بزنس لیڈرز سے اپنے خطاب میں کہا مشرق وسطیٰ میں اس جنگ کے اثرات کیا ہوں گے فوری طور پر ان کا درست اندازہ کرنا مشکل ہے۔

میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس جنگ میں شامل ملک بھی ابھی اس جنگ کے اثرات کے بارے میں درست اندازہ نہیں لگا پا رہے۔ اس لیے ہمارے جیسے ملکوں کے لیے درست پیش گوئی کرنا اور بھی مشکل ہے۔ تاہم کورونا 19کے باعث ہونے والے نقصانات کا اندازہ سب کو ہے ، میرے خیال میں اس جنگ کے ممکنہ نقصانات کو کورونا 19 کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کے ساتھ دیکھا جانا چاہیے۔کورونا کی وجہ سے ہر چیز رک سی گئی تھی۔ لاجسٹک سے لے کر پیداوار ، تجارت و معیشت سب کچھ متاثر ہوئی اور اس کے اثرات کافی دیر رہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں