’’ العربیہ/ الحدث ‘‘ کی نامہ نگار کی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کی جانب سے کسی بھی پیشگی انتباہ کے بغیر بیروت کے جنوبی علاقے ’’ ضاحیہ ‘‘ کو فضائی حملے کا نشانہ بنا ڈالا گیا ہے۔
لبنان کی سرکاری نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق اسرائیلی جنگی طیاروں نے ضاحیہ کے علاقے "تحویطہ الغدیر" پر شدید حملہ کیا جسے اسرائیل نے آج صبح سویرے بھی نشانہ بنایا تھا اور اس حملے میں دو افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے بیروت میں حزب اللہ کے اہداف پر حملوں کے ایک نئے سلسلے کا اعلان کیا ہے۔
اکثر اوقات بغیر کسی وارننگ کے کیے جانے والے یہ حملے حزب اللہ کے ارکان کی ٹارگٹ کلنگ یا انہیں نشانہ بنانے کے لیے کیے جاتے ہیں۔
اس سے قبل آج ایرانی وزارت خارجہ نے نیوز ایجنسی "تسنیم" کے حوالے سے بتایا تھا کہ لبنان میں ان کی رہائش گاہ پر اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ان کے 6 سفارت کار جاں بحق ہو گئے ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ نے چھ سفارت کاروں کے قتل کو منظم دہشت گردی کی مثال اور بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں پر حملہ قرار دیا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب صبح سویرے دارالحکومت بیروت میں حزب اللہ کے سابقہ گڑھ جنوبی ضاحیہ میں ایک عمارت پر 3 میزائل گرائے گئے۔
کشیدگی کی لہر
یہ حملے گزشتہ عرصے کے دوران جنوب اور بقاع کے کئی قصبوں کے ساتھ ساتھ دارالحکومت بیروت پر ہونے والے پے در پے اسرائیلی حملوں کے بعد ہوئے ہیں۔
اسرائیلی وزیر دفاع یسرائيل کاٹز کے سابقہ اعلان کے مطابق اسرائیل کی جانب سے غزہ کی طرز پر بفر زون بنانے کی غرض سے جنوب میں زمینی مداخلت اور کشیدگی بڑھانے کا اشارہ بھی دیا گیا ہے۔
ادھر تہران اور تل ابیب کے درمیان جاری تنازع کے دوران حزب اللہ نے شمالی اسرائیل کی جانب ڈرونز اور راکٹوں کو داغنا جاری رکھا ہوا ہے۔
دو مارچ سے معاشی بحرانوں میں گھرے لبنان میں جنگ و جدل چل رہی ہے۔ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب حزب اللہ نے 28 فروری کو تہران پر اسرائیلی اور امریکی حملوں میں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے جاں بحق ہونے کے جواب میں اسرائیل پر راکٹ داغ دیے تھے۔
لبنانی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی افواج نے پورے لبنان میں شدید فضائی حملوں اور جنوب میں زمینی مداخلت کے ذریعے جواب دیا جس کے نتیجے میں اب تک لبنان میں 1116 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ اس تنازع کی وجہ سے بیروت کے جنوبی ضاحیہ اور جنوبی لبنان سے 10 لاکھ سے زائد لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔