قطراور یوکرین کا میزائل اور ڈرون حملے روکنے کے لیے تعاون کا معاہدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

قطر اور یوکرین نے ہفتے کے روز ایک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ یہ دفاعی معاہدہ ایران کے خلاف امریکہ و اسرائیل کی شروع کی گئی جنگ کے نتیجے میں خلیجی ممالک کے لیے ایران میزائل اور ڈرون حملوں کو روکنے کے سلسلے میں کیا گیا ہے۔

خیلجی ملک قطر کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ ایران نے میزائل حملوں سے اپنی پڑوسی ریاستوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈال رکھا ہے۔

قطر اور یوکرین کے درمیان ہونے والے اس معاہدے کے تحت دونوں ملک میزائل اور ڈرون حملے روکنے کی ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایک دوسرے سے تعاون کریں گے۔ اس سلسلے میں مشترکہ سرمایہ کاری کے علاوہ میزائل اور ڈرون حملے روکنے کے اپنے تجربات سے بھی دوسرے کو فائدہ اٹھانے کی سہولت دیں گے۔

قطر خلیجی ملکوں میں امریکہ کے سب سے بڑے فوجی اڈے کا میزبان ملک ہونے کے علاوہ امریکہ کا اہم تذویراتی شراکت دار ملک ہے۔ تاہم پچھلے سال اسرائیل نے اپنے میزائل حملے کا نشانہ بنایا اوران دنوں ایران امریکی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے میزائل اور ڈرون حملے کر رہا ہے۔

امریکہ کے ساتھ تذویراتی رشتہ میں منسلک ہونے کے باوجود قطر کو ایرانی میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی سے بچاؤ کے لیے یوکرین کی طرف دیکھنا پڑا ہے۔ کیونکہ یوکرین اس سے پہلے ہی ایرانی ساختہ میزائلوں کا توڑ کرنے میں کامیاب خیال کیا جاتا ہے۔

مبصرین کے مطابق امریکی فوجی اڈے کی قطر میں موجودگی اور امریکی دفاعی نظام کے نصب ہونے کے باوجود قطر کا یوکرین جیسے ایک جنگ زدہ ملک سے رجوع کرنا معنی خیز ہے۔

وزارت کی طرف سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق معاہدے پر یوکرینی صدر ولادی میر زیلنسکی کے قطر کے دورے کے موقع پر دستخط کیے گئے ہیں۔

اس سے قبل صدر زیلنسکی کی امارات کے صدرشیخ محمد بن زاید النہیان سے ملاقات ہوئی اور دونوں ملکوں نے سلامتی اور دفاع کے میدان میں تعاون کے معاہدے پراتفاق کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں