شمالی تہران میں دھماکے، ایران کی جنوبی اسرائیل میں صنعتی کمپلیکس پر بمباری

اسرائیلی فوج کا 24 گھنٹوں کے دوران مغربی اور وسطی ایران پر 140 فضائی حملوں کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اتوار کی شام ایرانی دارالحکومت تہران کے شمال میں دھماکوں کی ایک سیریز سنی گئی جن میں سے ایک دھماکہ انتہائی زوردار تھا۔ یہ دھماکے اس وقت ہوئے ہیں جب اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ دوسرے مہینے میں داخل ہو رہی ہے۔ نشانہ بنائے گئے علاقوں میں سے ایک سے دھواں اٹھتا ہوا دیکھا گیا تاہم فوری طور پر ہدف کا تعین نہیں کیا جا سکا۔

انفرا سٹرکچر پر حملوں کے بعد تہران کے کچھ حصوں میں بجلی منقطع ہو گئی ۔ نیوز ایجنسی ’’ تسنیم‘‘ نے نائب وزیر توانائی کے حوالے سے بتایا کہ چند گھنٹوں میں تہران کے حصوں میں بجلی بحال کر دی جائے گی۔ یاد رہے یہ پیش رفت اس وقت ہوئی ہے جب اسرائیلی فوج نے اتوار کو اطلاع دی کہ اس نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مغربی اور وسطی ایران میں 140 فضائی حملے کیے ہیں۔

اسرائیلی فوج کے پریس آفس نے ایک بیان میں بتایا کہ اسرائیلی فضائیہ نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران وسطی اور مغربی ایران میں اہداف پر 140 فضائی حملے کیے۔ پریس آفس نے کہا کہ گوداموں اور بیلسٹک میزائلوں کے لانچنگ سائٹس کے علاوہ فضائی دفاع سے متعلق تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ دوسری جانب ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب نے اتوار کو بیلسٹک میزائلوں سے جنوبی اسرائیل میں ایک صنعتی کمپلیکس کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا۔ سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے پاسداران انقلاب کے بیان میں کہا گیا کہ یہ حملہ ایران میں صنعتی مراکز پر امریکی- اسرائیلی حملوں کا جواب ہے۔

اسرائیلی ایمرجنسی سروسز نے اطلاع دی ہے کہ جنوبی اسرائیل پر ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں صحرائی شہر بئر السبع کے قریب کم از کم 11 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ اسرائیلی ایمرجنسی سروس ’’ میگن ڈیوڈ ایڈم ‘‘ نے بتایا کہ یہ افراد حملوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی شاک ویوز سے اڑنے والے ٹکڑوں کی وجہ سے زخمی ہوئے۔ اس تناظر میں فصلوں کے تحفظ کی ماہر کمپنی ’’ اڈاما ‘‘ نے کہا کہ جنوبی اسرائیل میں مکھشتم میں اس کے کارخانے پر ایرانی میزائل یا دفاعی میزائل کے ٹکڑے گرے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ چینی سینجنٹا گروپ سے وابستہ کمپنی نے مزید کہا کہ فیکٹری کو پہنچنے والے نقصان کی حد کا ابھی پتہ نہیں چل سکا ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی فائر اینڈ ریسکیو سروس نے بتایا ہے کہ جنوبی اسرائیل کے ایک صنعتی علاقے ، جہاں متعدد کیمیائی اور صنعتی کارخانے واقع ہیں، میں ایرانی میزائل حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی جس کے بارے میں خدشہ ہے کہ یہ مار گرائے گئے میزائل کے ملبے سے لگی ہے۔ حکام نے ہر ایک کو صنعتی علاقے ’’ نیوٹ ہوفاف ‘‘سے دور رہنے کی تاکید کی ہے کیونکہ وہاں خطرناک مواد موجود ہے۔ فائر بریگیڈ کی 34 ٹیمیں آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی علاقے سے 800 میٹر سے زیادہ فاصلے پر رہنے والوں کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔

فائر اینڈ ریسکیو سروس کی جانب سے جائے وقوعہ سے جاری کردہ ویڈیوز اور تصاویر میں آگ کے بڑے شعلے اور سیاہ گھنا دھواں دیکھا جا سکتا ہے اور دیکھا جا سکتا ہے کہ فائر فائٹرز آگ کو پھیلنے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سروس نے بتایا کہ اب صورتحال قابو میں ہے۔ تصاویر میں ایک عمارت مکمل طور پر تباہ دکھائی دے رہی ہے۔ فائر اینڈ ریسکیو سروس کی جانب سے اتوار کی شام بتایا گیا کہ فائر فائٹرز اب بھی موقع پر موجود ہیں اور آگ کے باقی ماندہ حصوں کو بجھانے کے حتمی عمل کے ساتھ ساتھ ٹھنڈا کرنے کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ دوبارہ آگ لگنے سے بچا جا سکے۔ اسرائیلی فوج نے اس سے قبل کہا تھا کہ اس نے ایران سے داغے گئے میزائلوں کا پتہ لگایا ہے۔ اسرائیل میں اتوار کو حملوں کی کئی لہریں دیکھی گئیں اور جنوب میں آگ لگنے کی خبر آنے تک کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں