نیتن ياهو کا اسرائیلی فوج کو لبنان میں بفر زون وسیع کرنے کا حکم

حزب اللہ اب بھی اسرائیل پر راکٹ فائر کرنے کی محدود صلاحیت رکھتی ہے: اسرائیلی وزیر اعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے اپنی فوج کو لبنان میں بفر زون کو وسعت دینے پر کام کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ اس دوران جنوبی لبنان میں تل ابیب کا حملہ جاری ہے۔ نیتن یاہو نے وہاں کی سکیورٹی صورتحال کو یکسر بدلنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے کا مقصد سرحدوں پر جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کے خطے میں بڑے پیمانے پر پھیلاؤ کے خدشات کے پیش نظر شمالی سرحد پر اسرائیلی سکیورٹی کو مضبوط بنانا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ لبنان میں، میں نے ابھی فوج کو حکم دیا ہے کہ موجودہ بفر زون کو مزید وسیع کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کا مقصد (حزب اللہ کے جنگجوؤں کی جانب سے) کسی بھی حملے کے خطرے کو حتمی طور پر روکنا اور سرحد پر ٹینک شکن میزائلوں کی فائرنگ کو بند کرنا ہے۔

یاد رہے اسرائیل نے چند روز قبل کہا تھا کہ وہ اپنا بفر زون دریائے لیطانی تک وسیع کر رہا ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں ہوا کہ نیتن یاہو اسی علاقے کا ذکر کر رہے تھے یا وہ لبنان کی مزید زمین پر قبضہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ واضح رہے اسرائیلی وزیر دفاع یسرائيل کاٹز نے چند روز قبل کہا تھا کہ اسرائیلی افواج باقی ماندہ پلوں اور دریائے لیطانی تک کے سکیورٹی زون کا کنٹرول سنبھال لیں گی۔ دریائے لیطانی اسرائیلی سرحد سے تقریباً 30 کلومیٹر شمال میں بحیرہ روم میں گرتا ہے۔

ناردرن کمانڈ کے دورے کے دوران اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے واضح کیا کہ تنظیم حزب اللہ اب بھی اسرائیل پر راکٹ فائر کرنے کی محدود صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے حزب اللہ کے ہزاروں ارکان کو ختم کر دیا، سب سے اہم بات یہ کہ ہم نے ڈیڑھ لاکھ راکٹوں اور گولوں کے اس بڑے خطرے کو ختم کر دیا ہے جو اسرائیلی شہروں کو تباہ کرنے کے لیے تیار کیے گئے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کے باوجود حزب اللہ اب بھی ہم پر راکٹ فائر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

نتنياهو نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ایران اب وہ ایران نہیں رہا، حزب اللہ اب وہ حزب اللہ نہیں رہی اور حماس اب وہ حماس نہیں رہی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ اب وہ فوجیں نہیں رہیں جو ہمارے وجود کے لیے خطرہ ہوں، بلکہ یہ ہارے ہوئے دشمن ہیں جو بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

واضح رہے لبنان میں وزارت صحت نے اتوار کو اعلان کیا ہے کہ موجودہ جنگ کے آغاز سے اب تک لڑائی میں 1,200 سے زیادہ افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کی جنگ 2 مارچ کو لبنان تک اس وقت پہنچی جب امریکی اسرائیلی حملے کے پہلے دن ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے جاں بحق ہونے کے جواب میں حزب اللہ نے اسرائیل پر راکٹ فائر کردیے۔ اسرائیل اس کے جواب میں اب تک لبنان پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کر رہا ہے اور اس کی افواج جنوب میں داخل ہو رہی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں