شام کے دارالحکومت دمشق اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، یہ دھماکے ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ایک طرف ایران اور دوسری طرف اسرائیل و امریکہ کے درمیان جنگ جاری ہے۔
شام کے سرکاری ٹیلی ویژن نے بدھ کے روز رپورٹ دی ہے کہ قوی امکان ہے کہ یہ دونوں دھماکے اسرائیلی فضائی دفاعی نظام کی جانب سے ایرانی میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کرنے کے نتیجے میں ہوئے ہیں۔
گذشتہ عرصے کے دوران قسرك بیس سمیت کئی سابقہ امریکی فوجی اڈوں کو عراقی مسلح گروہوں کی جانب سے ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے۔ اسی طرح شامی فوج نے چند روز قبل ملک کے جنوب میں واقع التنف بیس پر ڈرون حملے کو ناکام بنانے کا بھی اعلان کیا تھا۔
شام کی تنازع سے دور رہنے کی کوشش
شام اب تک خود کو اس تنازع میں ملوث ہونے سے بچانے میں کامیاب رہا ہے جو لبنان سے لے کر عراق اور یمن تک پورے خطے میں پھیل چکا ہے۔ شامی صدر احمد الشرع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان کا ملک جو ابھی طویل برسوں کی جنگ سے باہر نکلا ہے، وہ 28 فروری سنہ 2026ء سے خطے میں بھڑکنے والے اس تنازع میں شامل ہونے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔
واضح رہے کہ دو مارچ سنہ 2026ء کو حزب اللہ نے اسرائیل کی جانب میزائل داغ کر لبنانی محاذ کھول دیا تھا جس کے جواب میں اسرائیل نے جنوبی لبنان اور بیروت کے جنوبی ضاحیہ پر شدید فضائی حملے کیے۔ اسی دوران اسرائیلی افواج کئی جنوبی سرحدی قصبوں میں داخل ہو گئی تھیں اور اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ جنوبی لبنان میں ایک بفر زون قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جو 30 کلومیٹر تک پھیل سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی تہران کے حامی عراقی مسلح گروہ بھی متحرک ہو گئے ہیں اور انہوں نے عراق و خطے میں امریکی اڈوں اور مفادات کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔
-
حالات کے پیش نظر ... عازمین حج کی آمد میں سہولت کے لیے سعودی آپریشن روم کا قیام
وزیر حج : تمام متعلقہ ادارے کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے مکمل تیار ...
مشرق وسطی -
سعودی عرب نے دو ڈرونز روک کر تباہ کر دیے: وزارتِ دفاع
ترجمان وزارتِ دفاع میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ سعودی عرب نے بدھ کے روز دو ...
مشرق وسطی -
ایران کی جارحیت خطے کے امن و استحکام کے لیے انتہائی سنگین خطرہ ہے : سعودی وزیر داخلہ
انھوں نے باور کرایا کہ سکیورٹی کے استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے کسی بھی خطرے کے ...
مشرق وسطی