تہران پر شدید بمباری میں سپریم لیڈر کے قریبی ساتھی کمال خرازی زخمی ،اہلیہ جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

مقامی میڈیا نے آج اطلاع دی ہے کہ ایرانی دارالحکومت تہران پر کیے گئے ایک فضائی حملے میں اہم ایرانی عہدیدار کمال خرازی شدید زخمی ہو گئے ہیں، جبکہ ان کی رہائشی عمارت کو نشانہ بنائے جانے کے نتیجے میں ان کی اہلیہ جاں بحق ہو گئی ہیں۔

رپورٹوں کے مطابق یہ حملہ امریکی اور اسرائیلی جنگی طیاروں کی طرف کیا گیا ہے، جہاں براہ راست بمباری نے کمال خرازی کے گھر کو نشانہ بنایا جس سے وہاں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔ ذرائع نے اشارہ کیا ہے کہ کمال خرازی کو علاج کے لیے ایک ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، تاہم ان کی صحت کی صورتحال کے بارے میں متضاد معلومات سامنے آ رہی ہیں۔

ایرانی قیادت کے قریبی مشیر

کمال خرازی ایرانی سپریم لیڈر کی انتہائی مقرب شخصیات میں شمار کیے جاتے ہیں، وہ اس وقت "اسٹریٹجک کونسل برائے خارجہ تعلقات" کے سربراہ ہیں، جو کہ ایک مشاورتی ادارہ ہے اور ملک کی اعلیٰ قیادت کی براہ راست نگرانی میں ایرانی خارجہ پالیسی کے خدوخال وضع کرنے کا ذمہ دار ہے۔

سابق وزیر خارجہ اور تجربہ کار سفارت کار

کمال خرازی سنہ 1997ء سے سنہ 2005ء کے درمیان ایران کے وزیر خارجہ رہ چکے ہیں، جبکہ اس سے قبل وہ اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں ایرانی نظام کا ایک تجربہ کار سفارتی چہرہ سمجھا جاتا ہے۔

یہ پیش رفت علاقائی کشیدگی میں اضافے کے دوران سامنے آئی ہے، جبکہ متعلقہ حکام کی جانب سے حملے کی تفصیلات یا اس کے ممکنہ نتائج پر فوری طور پر کوئی سرکاری تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں