فرانسیسی لہجے میں... ٹرمپ کی ماکروں پر تنقید، اہلیہ کے "تھپڑ" کا بھی ذکر کیا
فرانسیسی صدر نے اپنی اہلیہ کے بارے میں ٹرمپ کے بیان کو "نا مناسب اور معیار سے گرا ہوا" قرار دیا
وائٹ ہاؤس کے یوٹیوب چینل پر مختصر وقت کے لیے نشر ہونے والی ایک وڈیو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گذشتہ بدھ کو ایک نجی ظہرانے کے دوران اپنے فرانسیسی ہم منصب اور ان کی اہلیہ کا مذاق اڑاتے نظر آئے۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں نے اسے نا مناسب اور معیار سے گرا ہوا قرار دیا ہے۔
وائٹ ہاؤس میں اپنے مہمانوں کے سامنے نیٹو حلیفوں کے ساتھ امریکی تعلقات اور ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تبصرہ کرتے ہوئے، ٹرمپ نے ماکروں اور ان کی اہلیہ کے درمیان پیش آنے والے ایک مبینہ واقعے کو اتحاد کی کمزوری سے جوڑنے کی کوشش کی۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا "میں نے فرانسیسی ماکروں کو فون کرنے کا سوچا، جن کے ساتھ ان کی اہلیہ کا سلوک بہت برا ہے۔ وہ اس تھپڑ کے بعد ابھی تک سنبھلنے کی کوشش کر رہے ہیں جو ان کے چہرے پر رسید کیا گیا تھا۔"
ٹرمپ مئی 2025 کی ایک وڈیو کا حوالہ دے رہے تھے جس میں بظاہر بريجٹ ماکروں ویتنام کے دورے کے دوران فرانسیسی صدر کے چہرے پر مکا مارتی نظر آ رہی تھیں۔ ماکروں نے بعد میں اس کی تردید کرتے ہوئے اسے گمراہ کن مہم کا حصہ قرار دیا تھا۔
ٹرمپ نے وڈیو میں مزید کہا "ہمیں ان کی ضرورت نہیں تھی، لیکن میں نے بہرحال پوچھ لیا۔"
🇺🇸🇫🇷Trump just mocked French President Macron again: “I called up France, Macron, whose wife treats him extremely badly and he’s still recovering from the right to the jaw.”pic.twitter.com/06IrE0NHlf https://t.co/2bHopgEatd
— Corefrontline (@corefrontline) April 2, 2026
انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا "میں نے کہا : ایمانوئل، ہم خلیج میں کچھ مدد چاہتے ہیں، حالانکہ ہم برے لوگوں کے خاتمے اور بیلسٹک میزائلوں کی تباہی کے معاملے میں ریکارڈ توڑ رہے ہیں۔ ہم کچھ مدد چاہتے ہیں۔ اگر ممکن ہو تو کیا آپ فوراً جہاز بھیج سکتے ہیں؟"
پھر انہوں نے فرانسیسی لہجہ اپناتے ہوئے ماکروں کا مبینہ جواب نقل کیا "نہیں نہیں نہیں، ڈونلڈ ہم ایسا نہیں کر سکتے۔ ہم یہ جنگ ختم ہونے کے بعد کر سکتے ہیں۔"
ٹرمپ نے مزید کہا "میں نے اس سے کہا : نہیں نہیں ایمانوئل، جنگ ختم ہونے کے بعد مجھے تمہاری ضرورت نہیں ہو گی۔"
یہ تمسخر اڑانے والے بیانات ٹرمپ کی جانب سے اپنے اتحادیوں پر کیے گئے ایک وسیع تر حملے کا حصہ تھے، جہاں انہوں نے اس سے قبل "ڈیلی ٹیلی گراف" کو بتایا تھا کہ وہ نیٹو سے امریکہ کے نکلنے کے آپشن پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں، کیونکہ اتحادیوں نے ایران کے خلاف آپریشنز اور آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے میں تعاون سے انکار کر دیا ہے۔
ٹرمپ نے امریکہ کی شمولیت کے بغیر اس اتحاد کو "کاغذی شیر" قرار دیا اور ایران کے ساتھ مقابلے میں واشنٹگن کا ساتھ نہ دینے پر اتحادیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
دوسری جانب فرانسیسی صدر نے اس بات کی تصدیق کی کہ ان کا ملک اس جنگ میں حصہ نہیں لے گا جو امریکہ اور اسرائیل... ایران کے خلاف لڑ رہے ہیں اور جو اب اپنے دوسرے مہینے میں داخل ہو چکی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان آپریشنز کے بارے میں پیرس سے "کوئی مشاورت نہیں کی گئی"۔
ماکروں نے جاپانی چینل "این ایچ کے" کو دیے گئے ایک انٹرویو میں دوبارہ "امن، کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کی بحالی" کی دعوت دی اور اسے ہی بحران کا واحد حل قرار دیا۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کو "منظم اور پُر امن طریقے سے" دوبارہ کھولنے پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ "کوئی فوجی انتخاب نہیں ہوگا اور کئی ممالک جہاز رانی کی سکیورٹی کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں"۔
-
محمد بن زاید اور ٹرمپ کا خطے پر "ایرانی جارحیت" کے اثرات پر تبادلہ خیال
دونوں نے صورتحال کی تازہ ترین پیش رفت پر بات چیت کی
بين الاقوامى -
ایران اور امریکہ کے موقف میں کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مشترکہ نکات موجود ہیں : پاکستان
اسلام آباد نے ان مذاکرات کی سہولت کے لیے چین اور شراکت داروں کے ساتھ ہم آہنگی کی ...
بين الاقوامى -
ہم اب ایرانی بحریہ یافضائیہ کی کسی قابلِ ذکرسرگرمی کی نگرانی نہیں کررہے ہیں:امریکی سینٹکوم
سینٹکوم کمانڈر بریڈ کوپر کے مطابق آپریشن کے آغاز سے اب تک ایران کے اندر 12300 حملے ...
مشرق وسطی