اسرائیل کا ایرو میزائل انٹرسیپٹرز کی پیداوار میں اضافہ کرنے کے عزم کا اظہار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

وزارتِ دفاع نے پیر کو کہا ہے کہ اسرائیل ایران سے جنگ لڑتے ہوئے ایرو میزائل انٹرسیپٹرز کی تیاری کو تیز کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا میں سوالات اٹھے کہ اسرائیل کا انٹرسیپٹر کا ذخیرہ کب تک چلے گا اور بعض تجزیہ کاروں نے خاص طور پر ایرو انٹرسیپٹرز کی کمی کی طرف اشارہ کیا۔ یہ اعلان اس کے بعد سامنے آیا۔

اسرائیل کے پاس ایک کثیر سطحی فضائی دفاعی سلسلہ ہے جس میں مختلف قسم کے نظام مختلف بلندیوں پر خطرات کو روکتے ہیں۔

اس میں اعلیٰ سطحی نظام بیلسٹک میزائل شکن ایرو سسٹمز پر مشتمل ہے جس میں ایرو ٹو زمین کے ماحول اور خلا میں کام کرتا ہے اور ایرو تھری زمین کے ماحول کے اوپر مداخلت کرتا ہے۔

وزارتِ دفاع کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وزارتی کمیٹی برائے پروکیورمنٹ نے اسرائیلی وزارتِ دفاع کے ایک منصوبے کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت ایرو انٹرسیپٹر کی پیداوار میں ایک بڑی اضافی سرعت لائی جائے گی۔

نیز کہا گیا، یہ منصوبہ "ایرو انٹرسیپٹرز کی پیداواری شرح اور ذخیرہ دونوں میں نمایاں اضافہ" ممکن بنائے گا جو وقوع پذیر جنگی مہم کی تیاریوں کے حصہ ہے۔

بیان میں وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز کے حوالے سے کہا گیا، "اسرائیل کے پاس اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے کافی انٹرسیپٹرز موجود ہیں اور یہ اقدام عمل کی آزادی اور مسلسل آپریشنل برداشت کو یقینی بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جس کی ہمیں ضرورت ہے۔"

ہر ایرو ٹو انٹرسیپٹر کی لاگت کا تخمینہ 1.5 ملین اور ایرو 3 کا تقریباً دو ملین ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں