لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق منگل اور بدھ کی درمیانی شب جنوب لبنان کے شہر صیدا پر کیے گئے ایک اسرائیلی فضائی حملے میں کم از کم 8 افراد جاں بحق ہو گئے۔
وزارتِ صحت نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ "جنوبی لبنان کے شہر صیدا پر اسرائیلی دشمن کے حملے کے نتیجے میں ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق 8 شہری جاں بحق اور 22 زخمی ہوئے ہیں"۔
مقامی میڈیا کے مطابق یہ حملہ شہر کے ساحلی علاقے (واٹر فرنٹ) پر ہوا، جبکہ نشر کی گئی تصاویر میں ایک کیفے میں ہونے والی تباہی کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس ساحلی شہر کے واٹر فرنٹ ایریا میں جو جنوبی لبنان کے بڑے شہروں میں شمار ہوتا ہے، متعدد کیفے موجود ہیں جہاں عام طور پر کافی رش رہتا ہے۔
فائر بریگیڈ کے عملے نے لگنے والی آگ بجھانے کی کوشش کی جبکہ لبنانی فوج نے جائے وقوعہ کا محاصرہ کر لیا۔ اس حملے سے وہاں کھڑی گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
مقامی ایسوسی ایشن کے ایک طبی اہلکار لؤی سبع نے بتایاکہ "ہمیں صیدا کی کوسٹل ہائی وے پر حملے کی اطلاع ملی، ہم نے دو ٹیمیں روانہ کیں لیکن زخمیوں کی بڑی تعداد کے باعث مزید مدد طلب کرنی پڑی"۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی ٹیموں نے جائے وقوعہ سے کم از کم 6 زخمیوں کو منتقل کیا ہے۔
اس سے قبل اسرائیلی فوج نے لبنان پر اپنے حملوں کے تسلسل میں جنوب لبنان کے شہر صور کے رہائشیوں کو گھر خالی کرنے کا انتباہ جاری کیا تھا۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان اویخائی ادرعی نے ٹیلی گرام پر عربی میں لکھا: "شہر صور کے مکینوں کے لیے فوری انتباہ۔۔۔ حزب اللہ کی سرگرمیاں دفاعی فوج کو اس کے خلاف بھرپور کارروائی پر مجبور کر رہی ہیں۔ اپنی حفاظت کی خاطر فوری طور پر اپنے گھر خالی کر دیں اور دریائے زہرانی کے شمال کی جانب منتقل ہو جائیں"۔ انہوں نے اس پوسٹ کے ساتھ اس علاقے کی تصویر بھی منسلک کی جسے نشانہ بنایا جانا ہے۔
ایک اور پیش رفت میں لبنان میں اقوامِ متحدہ کی عبوری فورس (یونیفل) نے جنوبی لبنان میں امن دستوں کے 3 اہلکاروں کی ہلاکت میں ملوث دو ممکنہ مجرموں کی نشاندہی کی ہے۔ جرمن نیوز ایجنسی کے مطابق ابتدائی نتائج بتاتے ہیں کہ یہ دو الگ الگ حملے تھے جو ایک اسرائیلی ٹینک اور حزب اللہ کی جانب سے کیے گئے۔
اقوامِ متحدہ کے ترجمان نے منگل کے روز بتایا کہ ابتدائی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ 29 مارچ کو ہونے والا حملہ اسرائیلی فوج کے ٹینک نے کیا تھا، جبکہ اگلے روز ہونے والا دوسرا حملہ ممکنہ طور پر لبنانی گروپ حزب اللہ کے بچھائے گئے بارودی جال کے نتیجے میں ہوا۔
نیویارک میں بتایا گیا کہ پہلے حملے کے دوران اقوامِ متحدہ کی چوکی کو لگنے والا گولہ بظاہر 120 ملی میٹر کا ٹینک گولہ تھا جو اسرائیلی فوج کے میرکاوا ٹینک سے فائر کیا گیا تھا۔ ترجمان نے واضح کیا کہ اقوامِ متحدہ نے ایسے واقعات سے بچنے کے لیے اسرائیل کو اپنے تمام مراکز پہلے ہی فراہم کر رکھے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دوسرا واقعہ بظاہر ایک دھماکہ خیز ڈیوائس کا نتیجہ تھا جو ممکنہ طور پر حزب اللہ نے نصب کی تھی۔ ان دونوں حملوں میں امن مشن کے 3 انڈونیشیائی فوجی جاں بحق ہوئے تھے۔
مشرقِ وسطیٰ کی یہ جنگ دو مارچ کو اس وقت لبنان تک پھیل گئی تھی جب تہران کے حمایت یافتہ گروپ نے امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے پہلے دن ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے قتل کے جواب میں اسرائیل پر میزائل داغے تھے۔ جواب میں اسرائیل لبنان پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کر رہا ہے اور اس کی افواج جنوب لبنان میں داخل ہو چکی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے معطل کرنے پر اتفاق کیا اور کہا کہ اگر تہران حیاتی اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دیتا ہے تو وہ جنگ بندی کے لیے تیار ہیں۔
لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک لبنان پر ہونے والے اسرائیلی حملوں میں 1500 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔