حزب اللہ کے خلاف پوری قوت سے لڑائی جاری رکھیں گے: اسرائیلی فوجی سربراہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے جمعرات کو اعلان کیا کہ انہوں نے لبنان کے ساتھ جلد از جلد براہِ راست مذاکرات شروع کرنے کی ہدایات دے دی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ تل ابیب نے لبنان پر اپنے حملوں کی شدت کم کر دی ہے۔ اسرائیلی چیف آف سٹاف ایال زامیر نے کہا کہ ہمارا اصل میدانِ جنگ لبنان میں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ فوج جنگ کی حالت میں ہے اور حزب اللہ کے خلاف پوری قوت سے لڑائی جاری رکھے ہوئے ہے۔

ایال زامیر نے جنوبی لبنان میں بنت جبیل کے مضافات میں ایک سکیورٹی اجلاس کے دوران کہا کہ ایران کے خلاف جنگ میں فوج کی کامیابیاں غیر معمولی اور تاریخی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران اس جنگ سے پہلے جیسا تھا اب ویسا نہیں رہا، بلکہ بہت زیادہ کمزور ہو چکا ہے۔ اگر ہم سے کسی بھی لمحے مطالبہ کیا گیا تو ہم پوری طاقت کے ساتھ دوبارہ لڑائی کے لیے تیار ہیں۔

حملوں کی شدت میں کمی

یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے جب ٹرمپ نے تصدیق کی کہ انہوں نے بدھ کو ایک ٹیلی فون کال کے دوران اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے لبنان پر حملوں کی رفتار کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ تہران کے ساتھ متوقع مذاکرات کی کامیابی کو یقینی بنایا جا سکے اور یہ کہ اسرائیل نے پہلے ہی لبنان میں اپنی کارروائیاں کم کرنا شروع کر دی ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ میں نے نیتن یاہو سے بات کی ہے، وہ معاملات کو پرسکون کریں گے۔ میرا خیال ہے کہ اس مرحلے پر ہمیں زیادہ پرسکون رہنے کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب نائب صدر جے ڈی وینس نے ہنگری میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسی طرح کے لہجے کا استعمال کیا اور اشارہ دیا کہ اسرائیل لبنان پر حملوں کے حوالے سے تھوڑا پیچھے ہٹ سکتا ہے۔ اس کے برعکس اسرائیلی وزیراعظم نے عوامی سطح پر ایسے کوئی اشارے نہیں دیے کہ وہ حملے کم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ حالانکہ انہوں نے جمعرات کو کہا کہ ان کی حکومت لبنان کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کی کوشش کرے گی۔ نیتن یاہو نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ میں نے اصرار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ عارضی جنگ بندی میں حزب اللہ شامل نہ ہو اور ہم انہیں پوری قوت سے نشانہ بنانا جاری رکھیں گے۔

اسی دوران پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف، جن کا ملک آج جمعہ کو اسلام آباد میں امریکی اور ایرانی وفود کی میزبانی کر رہا ہے، نے واضح کیا تھا کہ عارضی جنگ بندی کے معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے۔ تاہم ٹرمپ اور جے ڈی وینس نے بعد میں اس کی تردید کر دی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں