جنوبی لبنان میں والد کے جنازے کے دوران اسرائیلی حملہ، شیرخوار بچی جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

خون آلود پٹیوں میں لپٹی سات سالہ الین سعید گذشتہ ہفتے جنوبی لبنان میں اپنے گھر پر اسرائیلی حملے میں بمشکل بچ سکی۔ جیسا کہ پورے خطے میں جنگ بندی کی امید تھی تو وہ اپنے والد کی تدفین کے موقع پر وہاں موجود تھی لیکن ایک نئے حملے میں اس کی شیر خوار بہن اور دیگر رشتہ دار ہلاک ہو گئے۔

صریفا گاؤں میں سعید خاندان کے گھر پر حملہ بدھ کے روز امریکہ-ایران جنگ بندی کے پہلے دن ہوا جس میں کئی لوگوں کو لبنان کی بھی شمولیت کی امید تھی۔ سعید خاندان کے چار اور رشتہ دار بھی ہلاک ہوئے۔

الین کے 64 سالہ دادا ناصر سعید بھی حملے میں بچ گئے۔ وہ اتوار کے روز صور میں لاشیں وصول کرنے کے لیے گئے۔

ان میں سے ایک میت الین کی بہن اور ان کی پوتی تالین کی تھی جو سائز میں باقی میتوں سے بہت چھوٹی تھی۔

وہ ابھی دو سال کی بھی نہیں ہوئی تھی۔

اپنے سر اور دائیں ہاتھ پر پٹیوں اور چہرے پر زخموں کے ساتھ سعید نے خاموشی سے ماتم کیا جبکہ خواتین اپنا چہرہ آسمان کی طرف اٹھائے صدمے سے چیخ رہی تھیں۔

تالین 'جنگ میں پیدا ہوئی اور جنگ میں چل بسی'

بدھ کا دن لبنان کی حالیہ تاریخ کے مہلک ترین دنوں میں سے ایک تھا۔

"یہ انسانیت نہیں ہے۔ یہ ایک جنگی جرم ہے،" سعید نے ہسپتال میں رائٹرز کو بتایا جہاں الین کی والدہ غنویٰ بدستور زیرِ علاج تھیں۔

انہوں نے کہا، "انسانی حقوق کہاں ہیں؟ اسرائیل میں ایک بچہ، ایک بچہ بھی زخمی ہو جائے تو پوری دنیا اچھل پڑتی ہے، کیا ہم لوگ نہیں ہیں؟ کیا ہم انسان نہیں ہیں؟ ہم بھی ان جیسے ہیں!"

اس واقعے کے بارے میں سوال پر اسرائیلی فوج نے حسبِ سابق یہی کہا ہے کہ وہ صریفا حملے کی تحقیق کر رہی ہے۔

تالین کی پیدائش 2024 میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان شدید جھڑپوں کے آخری دور میں ہوئی تھی۔

غنویٰ کے والد محمد نزّال نے کہا، "وہ جنگ میں پیدا ہوئی اور جنگ میں ہی چل بسی۔"

شدید بمباری جاری ہے

امریکہ سے مذاکرات کے ایک حصے کے طور پر ایران لبنان کے لیے جنگ بندی چاہتا ہے لیکن یہ مذاکرات اتوار کو بغیر کسی پیش رفت کے ختم ہو گئے۔ لیکن اسرائیل لبنانی حکام سے الگ مذاکرات میں پیش رفت چاہتا ہے۔

لبنان پر شدید بمباری کا سلسلہ جاری ہے جس میں ہفتے کے روز تقریباً 100 افراد ہلاک ہو گئے۔

صور کے جبل عامل ہسپتال کے ایمرجنسی آپریشنز کے سربراہ ڈاکٹر عباس عطیہ نے کہا کہ گذشتہ ہفتے کی بمباری حالیہ برسوں میں شدید ترین بمباری تھی اور ان کے ہسپتال پہنچنے والے کئی مریض بچے تھے۔

عطیہ نے رائٹرز کو بتایا، "اب ہمیں جن چیلنجز کا سامنا ہے، وہ زخمیوں کی تعداد ہے جو بیک وقت اور 30 منٹ یا ایک گھنٹے میں بڑی تعداد میں آتے ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں