سعودی عرب کی 2026-2030 کے لیے پی آئی ایف کی حکمت عملی منظور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے زیرِ صدارت پبلک انویسٹمنٹ فنڈ (پِف) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے بدھ کو ادارے کے لیے 2026-2030 کی حکمتِ عملی منظور کر لی۔

خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ پِف کی طویل المدتی حکمتِ عملی کا تسلسل ہے جو ایک "مسابقتی گھریلو ماحولیاتی نظام فراہم کرنے" پر مرکوز ہو گا تاکہ "مختلف شعبوں کو جوڑا اور تزویری اثاثہ جات کی مکمل صلاحیت کو کھولا جائے، طویل مدتی منافع کو زیادہ سے زیادہ کیا جائے اور سعودی عرب کی اقتصادی تبدیلی کو آگے بڑھایا اور شہریوں کے معیار زندگی کو مزید بلند کیا جائے۔"

گورنر پف یاسر الرمیان نے کہا، "جیسا کہ ہم ملکی اور بین الاقوامی سطح پر ترقی کر رہے ہیں تو اس حکمتِ عملی کے نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔ ایک عشرے سے بھی کم عرصے میں ہم نے بے مثال منصوبے شروع کیے ہیں جن میں گیگا پروجیکٹس اور رئیل اسٹیٹ کی اہم پیشرفت نیز مصنوعی ذہانت، گیمنگ، ای سپورٹس اور قابلِ تجدید توانائی جیسے تزویری شعبوں میں منفرد سرمایہ کاری شامل ہیں۔ پف نے اپنے زیرِ انتظام اثاثہ جات میں چھے گنا اضافہ کیا اور سعودی عرب کی تبدیلی میں حصہ لینے کے لیے عالمی شراکت داروں اور سرمائے کو راغب کیا۔

انہوں نے یہ بھی کہا، پف سعودی ویژن 2030 کے مقاصد میں معاونت جاری رکھے گا۔

الرمیان نے کہا، "پف کی 2026-2030 کی منصوبہ بندی ترقی کے سفر میں فطری طور پر ایک اگلا قدم ہے۔ یہ ہمارے شراکت داروں کواعلیٰ معیار کے اثاثہ جات اور ماحولیاتی نظاموں میں سرمایہ کاری کرنے کے مزید مواقع فراہم کرتی ہے۔ اگلے پانچ سالوں میں ہم اپنی عظیم کامیابیوں کا سفر جاری رکھیں گے اور اپنی عالمی قیادت کو مضبوط کریں گے۔"

پف کے تین پورٹ فولیوز

پف نے اپنی سرمایہ کاری کو تین محکموں میں ترتیب دیا ہے: ویژن، تزویری و حکمتِ عملی اور مالیات۔ ویژن پورٹ فولیو مبینہ طور پر چھے اہم گھریلو ماحولیاتی نظاموں کی معاونت کرے گا جن میں سیاحت، شہری ترقی، جدید مینوفیکچرنگ، نقل و حمل، صاف توانائی اور نیوم شامل ہیں جبکہ یہ عالمی سرمایہ کاروں کو راغب اور نجی شعبے کی شرکت کے مواقع پیدا کرے گا۔

حکمتِ عملی پورٹ فولیو کلیدی اثاثہ جات کا انتظام کرنے اور کمپنیوں کو عالمی رہنما بننے میں معاونت پر توجہ مرکوز کرے گا اور مالیاتی پورٹ فولیو کا مقصد پائیدار منافع فراہم کرنا اور پف کی عالمی سرمایہ کاری کی پوزیشن کو مضبوط کرنا ہو گا۔

فنڈ نے حالیہ برسوں میں سعودی عرب کے غیر تیل جی ڈی پی میں 243 بلین ڈالر سے زیادہ کا اضافہ بھی کیا ہے اور مقامی نجی شعبے کے ساتھ 157 بلین ڈالر سے زیادہ خرچ کرتے ہوئے 2021 اور 2025 کے درمیان نئے منصوبوں میں 199 بلین ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی ہے۔

پف نے کہا ہے، جیسا کہ یہ مملکت کی طویل مدتی اقتصادی خوشحالی میں معاونت کرنے والے ایک سرکردہ عالمی سرمایہ کار کے طور پر اپنا کردار مضبوط کرتا ہے تو یہ پائیدار منافع اور سرمائے کی درست کارکردگی پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے عالمی منڈیوں میں ذہانت سے سرمایہ کاری جاری رکھے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں