ہزاروں لبنانیوں نے آج جمعے کے روز ملک کے جنوبی حصوں اور بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے میں اپنے گھروں کو واپسی شروع کر دی ہے۔ یہاں کل جمعرات کی نصف شب سے اسرائیل کے ساتھ 10 روزہ جنگ بندی کے نفاذ کے بعد اہم شاہ راہوں پر ٹریفک کا رش بڑھ گیا ہے۔
عینی شاہدین نے جنوب کی طرف جانے والی سڑکوں پر شدید ٹریفک جام کی اطلاع دی ہے، جہاں گاڑیوں پر بستر اور ذاتی سامان لدا ہوا دیکھا گیا۔
موفد العربية إبراهيم فتفت: الجيش اللبناني ينتشر في بعض النقاط العسكرية ويحذر النازحين من العودة إلى ديارهم قبل إزالة مخلفات الحرب pic.twitter.com/wv9zZoNv0g
— العربية (@AlArabiya) April 17, 2026
کچھ مسافروں نے حزب اللہ سے وابستہ جھنڈے لہرائے، جبکہ دیگر نے فتح کے نشانات بنائے۔ راستوں میں نوجوان اپنے گھروں کو واپس جانے والوں میں مٹھائیاں تقسیم کرتے رہے۔ جنوبی ساحلی شہر صيدا میں بھی رات گئے جشن منایا گیا، جہاں جنگ بندی کے اعلان کے بعد شہری سڑکوں پر نکل آئے۔ یہ واپسی ایران نواز حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان 6 ہفتوں سے زائد کی لڑائی کے بعد ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں جنوبی لبنان اور بیروت کے جنوبی مضافات سے لاکھوں افراد بے گھر ہوئے اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلی۔
لبنانی وزارتِ صحت کے ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے بیان کے مطابق گذشتہ ماہ 2 مارچ سے کل جمعرات تک لبنان پر اسرائیلی بم باری میں 2196 افراد ہلاک اور 7185 زخمی ہوئے۔ اسرائیلی حملے گزشتہ 28 فروری کو امریکہ اور تل ابیب کی جانب سے ایران پر شروع کی گئی جنگ کے بعد شمالی اسرائیل پر حزب اللہ کی بمباری کے جواب میں کیے گئے تھے۔
وصف وقف إطلاق النار مع لبنان بفرصة لـ "سلام تاريخي".. نتنياهو: جيشنا سيبقى في جنوب لبنان ضمن منطقة أمنية بعمق 10 كم pic.twitter.com/XTJxp2hPMg
— العربية (@AlArabiya) April 17, 2026
اسرائیلی افواج نے جنوبی لبنان کے علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے اور دریائے لیطانی تک کے علاقے پر کنٹرول برقرار رکھنے کا عہد کیا ہے، جو اسرائیل کی سرحد سے تقریباً 30 کلومیٹر شمال میں بحیرہ روم میں گرتا ہے۔ اسرائیل نے جنگ کے دوران لیطانی کے جنوب میں واقع علاقوں کے رہائشیوں کو علاقہ چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔ اسرائیلی افواج نے علاقے میں لبنانی قصبوں اور دیہات کو تباہ کر دیا ہے اور کہا ہے کہ اس کا مقصد شمالی اسرائیل کے قصبوں کو حزب اللہ کے حملوں سے بچانے کے لیے ایک "بفر زون" بنانا ہے۔
لبنان پر اسرائیلی فوجی مہم ان کوششوں میں ایک بڑی رکاوٹ بن گئی تھی جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے کر رہے ہیں۔ جنگ بندی کے اعلان کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لبنان اور اسرائیل ایک طویل مدتی معاہدے کے لیے کام کریں گے اور اشارہ کیا کہ لبنان "حزب اللہ کے معاملے سے نمٹنے" پر راضی ہو گیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ بنیامین نیتن یاہو اور لبنانی صدر جوزف عون کو وائٹ ہاؤس میں "سنجیدہ مذاکرات" کے لیے مدعو کریں گے۔ واضح رہے کہ دونوں ممالک 1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے تکنیکی طور پر حالتِ جنگ میں ہیں۔