امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان ایک عارضی جنگ بندی کے معاہدے کا اعلان کردیا۔ اس جنگ بندی کا آغاز جمعرات کی آدھی رات سے ہوگا اور یہ دس دن تک برقرار رہے گی۔
یہ اعلان انہوں نے لبنانی صدر جوزف عون اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطوں کے بعد کیا۔ ٹرمپ نے ایک پوسٹ میں کہا کہ میں نے ابھی معزز لبنانی صدر جوزف عون اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ساتھ بہترین بات چیت کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا ہے کہ اپنے ملکوں کے درمیان امن کے حصول کے لیے، وہ باضابطہ طور پر 10 روزہ جنگ بندی کا آغاز کریں گے۔ یہ جنگ بندی امریکی مشرقی وقت کے مطابق شام 5 بجے شروع ہوگی۔
مديرة مكتب العربية في واشنطن ناديا البلبيسي: ترمب مارس ضغوطا على نتنياهو للموافقة على وقف إطلاق النار في لبنان.. والإدارة الأميركية تسعى لإبرام اتفاق سلام بين بيروت وتل أبيب pic.twitter.com/KGrI5TF8Ja
— العربية (@AlArabiya) April 16, 2026
امریکی صدر نے کہا کہ دونوں ملکوں نے منگل کے روز واشنگٹن میں ہمارے وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ 34 سالوں میں پہلی بار ملاقات کی۔ اس سے مراد ٹرمپ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی سرپرستی میں دونوں فریقوں کے درمیان ہونے والی حالیہ ملاقات لے رہے تھے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ روبیو اور جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین ڈین کین کو ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ مستقل امن کے حصول کے لیے اسرائیل اور لبنان کے ساتھ مل کر کام کریں۔
ٹرمپ نے اپنی پوسٹ کا اختتام یہ کہتے ہوئے کیا کہ ’’ دنیا بھر میں نو جنگیں ختم کرنے میں حصہ لینا میرے لیے اعزاز کی بات تھی اور یہ دسویں ہوگی، لہذا آئیے اسے مکمل کریں۔
دوسری طرف لبنانی ایوانِ صدر نے اعلان کیا کہ جمعرات کی سہ پہر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور لبنانی صدر جوزف عون کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں لبنان میں جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کوششوں اور خطے میں استحکام کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
جاری بیان کے مطابق جوزف عون نے گفتگو کے دوران لبنان میں جنگ بندی، مستقل امن و استحکام کی فراہمی اور خطے میں امن عمل کی راہ ہموار کرنے کے لیے ٹرمپ کی کوششوں پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ جتنی جلدی ممکن ہو سکے جنگ بندی کے لیے یہ کوششیں جاری رہیں گی۔
ٹرمپ نے اپنی جانب سے صدر عون اور لبنان کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا اور جلد از جلد جنگ بندی کے لبنانی مطالبے کو پورا کرنے کے اپنے عزم پر زور دیا۔ ایک لبنانی عہدیدار نے ’’ سی این این ‘‘ سے گفتگو میں جوزف عون اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے درمیان کسی بھی متوقع رابطے کی تردید کی اور کہا کہ بیروت نے واشنگٹن کو مطلع کر دیا ہے کہ وہ فی الوقت ایسا قدم اٹھانے کے لیے تیار نہیں ہے۔
عہدیدار نے مزید کہا کہ ملک کے جنوب میں جاری فوجی کارروائیوں اور تناؤ کے پیش نظر اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی ہونے سے پہلے لبنان کسی اضافی مذاکرات کی کوشش نہیں کرے گا۔ یاد رہے ٹرمپ نے اپنی حالیہ پوسٹ سے قبل اعلان کیا تھا کہ لبنان اور اسرائیل کے رہنما ایک ایسا رابطہ کریں گے جو دہائیوں میں پہلا ہوگا۔ یہ ایک ایسا قدم ہے جو کشیدگی میں کمی کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔ اسرائیل نے زور دیا کہ لبنان کے ساتھ کوئی بھی مذاکرات تناؤ کو قابو میں رکھنے کی بین الاقوامی کوششوں کا حصہ ہیں۔ یہ سفارتی پیش رفت ایک جامع امن کے حصول اور خطے میں تنازع کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ کے درمیان سامنے آئی ہے۔
-
امریکی وزیر خارجہ کا لبنانی صدر سے رابطہ ، اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی اور مذاکرات پر بات چیت
لبنانی حکام کے مطابق صدر جوزف عون مستقبل قریب میں بنیامین نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر ...
بين الاقوامى -
اسرائیل نے جنوبی لبنان کو ملک کے باقی حصوں سے ملانے والا آخری پل بھی تباہ کر دیا
اسرائیلی فوج نے 2 مارچ سے اب تک دریائے لیطانی پر واقع 4 اہم پلوں کو یکے بعد دیگرے ...
بين الاقوامى -
لبنان میں جنگ بندی ایران میں جنگ بندی جتنی اہم ہے : قالیباف
پاکستانی وفد واشنگٹن کی جانب سے مذاکرات کے دوسرے دور کے انعقاد کا امکان پیش کیے ...
مشرق وسطی