اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے بعد مستقل معاہدات پر کام ہوگا: صدر جوزف عون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

لبنان کے صدر جوزف عون نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ کئی مستقل معاہدوں پر کام ہوگا۔ یہ پیش رفت جمعہ کے روز اعلان کردہ دس روزہ جنگ بندی پر عمل در آمد کے بعد ہوگی۔ صدر جوزف عون نے اس امر کا اظہار جمعہ کے روز کیا ہے۔

انہوں نے صدر ٹرمپ کی طرف سے اعلان جنگ بندی کے حوالے سے کہا لبنان اب کسی بھی گروہ کی جنگوں کے دور میں نہیں گھرا رہے گا۔ ان کا اشارہ ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کی طرف تھا۔

یاد رہے اسرائیل اور حزب اللہ کی یہ نئی جنگ 2 مارچ کو شروع ہوئی۔ اس جنگ کا آغاز ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ کے بعد ہوا تھا جبکہ جنگ بندی کو اسرائیل نے صدر ٹرمپ کے جمعہ کے روز سامنے آنے والے اعلان کے بعد قبول کیا ہے۔

ایرانی حمایت یافتہ گروپ حزب اللہ نے ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے بمباری سے جاں بحق ہونے کے بعد جنگ میں کودنے کا فیصلہ کیا تھا۔

صدر جوزف عون نے کہا اب ہم تمام ایک نئے مرحلے میں داخل ہونے والے ہیں۔ ان کے یہ خیالات دس دنوں کے لیے عارضی جنگ بندی کے اعلان کے روز سامنے آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا یہ مرحلہ عارضی جنگ بندی سے مستقل معاہدوں کی طرف جانے کا ہے۔ جس میں مستقل جنگ بندی معاہدہ بھی شامل ہوگا۔

انہوں نے کہا یہ معاہدے ہمارے ملک کے لوگوں کا حق ہے۔ یہ ہماری سرزمین کے اتحاد ، سالمیت اور ہماری قومی خود مختاری کے لیے ضروری ہیں۔

لبنانی صدر نے کہا یہ پچاس برسوں میں پہلی بار ہوا ہے کہ ہم اپنے لیے خود بات کر رہے ہیں۔ اب ہم کسی اور کے کھیل کا حصہ بننے والے نہیں ہیں۔ اب دوسروں کے لیے ہم جنگیں نہیں لڑیں گے۔ انہوں نے جنگ بندی میں کردار ادا کرنے پر صدر ٹرمپ اور سعودی عرب سمیت ان سب ملکوں کا شکریہ ادا کیا جن ملکوں نے لبنان میں جنگ بندی کے لیے کوششیں کیں۔

امریکہ کے صدر ٹرمپ نے جمعرات کے روز اپنے ٹروتھ سوشل اکاؤنٹ پر اس جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد صدر ٹرمپ نے اس توقع کا اظہار بھی کیا کہ اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو اور لبنان کے صدر جوزف عون اگلے چار پانچ دنوں میں وائٹ ہاؤس آئیں گے۔

اس سے محض چند دن پہلے لبنان اور اسرئیل کے واشنگٹن میں سفیروں نے باہم براہ راست ملاقات کی تھی۔ کئی دہائیوں کے دوران ہونے والی دونوں کے سفیروں کی یہ پہلی ملاقات تھی۔ اب توقع کی جارہی ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم اور لبنانی صدر ملاقات کریں گے۔

لبنان میں شیعہ سنی آبادی مجموعی طور پر ستر فیصد کے قریب ہے۔ جبکہ مسیحی آبادی بھی پانچ مختلف مسیحی فرقوں سے تعلق رکھتی ہے تاہم سیاسی حوالے سے ان کی نمائندگی کو اکٹھا کر دیا گیا ہے۔ البتہ سنی اور شیعہ تقسیم کو سیاسی و حکومت میں الگ الگ رکھا گیا ہے۔

یاد رہے لبنان میں آخری بار مردم شماری 1932 میں ہوئی تھی۔ جس کے تحت مسلمانوں کی مجموعی تعداد تقریباً ستر فیصد اور باقی مسیحی آبادی تھی۔ تاہم مردم شماری میں مسلمانوں کی آبادی کو شیعہ سنی تقسیم کر کے دیکھا گیا، اسی بنیاد پر لبنانی نظام میں صدارتی عہدہ مسیحی برادری کو دیا گیا، جبکہ وزارت عظمیٰ کا حق سنی مسلمانوں کے نام کیا گیا اور پارلیمان کے سپیکر کا عہدہ شیعہ کمیونٹی کے لیے مختص کیا گیا۔

صدر جوزف عون نے کہا ایسا کوئی معاہدہ نہیں کریں گے جو ہمارے قومی مفاد میں نہیں ہوگا یا ہمارے قومی حقوق کے خلاف ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں