ہرمز سے متعلق بیان پر تنازع، عراقچی کو سخت ردعمل کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات میں جہاں کئی حساس معاملات تاحال حل طلب ہیں، خصوصاً جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کا مسئلہ، وہیں گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی پر ہونے والی تنقید ایک اہم پیش رفت کے طور پر سامنے آئی ہے۔

ہفتہ کے روز عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ''ایکس '' پر ایک بیان میں کہا تھا کہ لبنان میں جنگ بندی کے نفاذ کے بعد آبنائے ہرمز کھول دی گئی ہے۔

تاہم بعد ازاں ایرانی قومی سلامتی کونسل جس کی سربراہی محمد باقر ذو القدر کر رہے ہیں، نے اس وضاحت جاری کی۔کونسل نے اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو عارضی اور مشروط طور پر صرف جنگ بندی کی مدت تک کھولا گیا ہے اور اس دوران صرف تجارتی جہازوں کو گزرنے کی اجازت ہوگی۔

بیان میں واضح کیا گیا کہ جنگی جہازوں یا دشمن ممالک سے تعلق رکھنے والے غیر تجارتی جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

ہرمز
ہرمز

مزید یہ کہ اس عمل کی نگرانی ایرانی مسلح افواج کریں گی اور جہازوں کی آمد و رفت مخصوص راستوں کے تحت ممکن ہوگی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں