ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات میں جہاں کئی حساس معاملات تاحال حل طلب ہیں، خصوصاً جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کا مسئلہ، وہیں گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی پر ہونے والی تنقید ایک اہم پیش رفت کے طور پر سامنے آئی ہے۔
ہفتہ کے روز عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ''ایکس '' پر ایک بیان میں کہا تھا کہ لبنان میں جنگ بندی کے نفاذ کے بعد آبنائے ہرمز کھول دی گئی ہے۔
In line with the ceasefire in Lebanon, the passage for all commercial vessels through Strait of Hormuz is declared completely open for the remaining period of ceasefire, on the coordinated route as already announced by Ports and Maritime Organisation of the Islamic Rep. of Iran.
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) April 17, 2026
تاہم بعد ازاں ایرانی قومی سلامتی کونسل جس کی سربراہی محمد باقر ذو القدر کر رہے ہیں، نے اس وضاحت جاری کی۔کونسل نے اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو عارضی اور مشروط طور پر صرف جنگ بندی کی مدت تک کھولا گیا ہے اور اس دوران صرف تجارتی جہازوں کو گزرنے کی اجازت ہوگی۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ جنگی جہازوں یا دشمن ممالک سے تعلق رکھنے والے غیر تجارتی جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
مزید یہ کہ اس عمل کی نگرانی ایرانی مسلح افواج کریں گی اور جہازوں کی آمد و رفت مخصوص راستوں کے تحت ممکن ہوگی۔