لبنانی دیہات کی منظم تباہی ... اسرائیلی ٹھیکے دار "پیسے کا ہَـل" کی پالیسی پر عمل پیرا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

لبنان میں 10 روزہ عارضی فائر بندی کے باوجود اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے دیہات میں عمارتوں کی تباہی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور آج پیر کے روز ان علاقوں کے مکینوں کو واپسی کے خلاف دوبارہ خبردار کیا ہے۔

اسرائیلی فوج کے کمانڈروں نے انکشاف کیا ہے کہ جن دیہات میں اسرائیلی افواج موجود ہیں، وہاں شہری عمارتوں کو منظم طریقے سے تباہ کیا جا رہا ہے، ان میں اسرائیل کی سرحد کے قریبی دیہات بھی شامل ہیں۔

اسرائیلی اخبار "ہآرتز" کے مطابق کمانڈروں نے واضح کیا ہے کہ اسرائیلی شہری ٹھیکے داروں کو روزانہ کی بنیاد پر اجرت دی جا رہی ہے یا انہیں تباہ شدہ عمارتوں کی تعداد کے حساب سے معاوضہ مل رہا ہے، بالکل اسی طرح جیسے غزہ کی پٹی میں کیا گیا تھا۔

مکانات، تعلیمی و پبلک عمارتیں

اس "سرگرمی" میں مکانات، عوامی عمارتوں اور یہاں تک کہ تعلیمی اداروں کی بڑے پیمانے پر مسماری شامل ہے۔

ذرائع نے مزید انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے حالیہ ہفتوں کے دوران کئی سرحدی دیہات میں درجنوں شہری انجینئرنگ گاڑیاں، خاص طور پر بلڈوزر داخل کیے ہیں۔ ان گاڑیوں کو معاوضے پر شہری ٹھیکیدار چلا رہے ہیں، جن میں سے بعض کو روزانہ اجرت ملتی ہے جبکہ دیگر کو کام کے حجم اور گرائی گئی عمارتوں کی تعداد کے مطابق ادائیگی کی جاتی ہے۔

ایک باخبر ذریعے نے بتایا کہ ان میں سے کچھ ٹھیکے دار پہلے غزہ کے اندر اسرائیلی فوج کی مسماری اور تباہی کی کارروائیوں میں حصہ لے چکے ہیں۔ ان کا اشارہ تھا کہ اس وقت ایک ہی گاؤں میں بیک وقت تقریباً 20 بلڈوزر کام کر رہے ہیں۔

پیسے کا ہل

اسرائیلی فوج کے اندر اس پالیسی کو "پیسے کا ہل" کا نام دیا گیا ہے، یعنی ٹھیکے داروں کو رقم دینا تاکہ وہ بلڈوزروں کے ذریعے منظم اور باقاعدہ انداز میں دیہات کو مسمار کر دیں۔ اس کا مقصد سرحدی علاقے کے خد و خال کو بدلنا اور رہائشیوں کو واپسی سے روکنا ہے۔

اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز اعلان کیا تھا کہ اس نے جنوبی لبنان میں ایک "زرد لکیر" قائم کی ہے، جو غزہ کی پٹی میں حماس تنظیم کے زیر کنٹرول علاقوں اور اسرائیلی افواج کے درمیان قائم کردہ فاصلاتی لکیر جیسی ہے۔ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان محاذ آرائی کی تاریخ میں یہ اصطلاح پہلی بار استعمال کی گئی ہے۔

یہ پیش رفت اسرائیلی وزیر دفاع یسرائيل کاتز کے گذشتہ ماہ کے اس بیان کے بعد سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ "لبنان میں سرحد کے قریب واقع دیہات کے تمام گھروں کو غزہ کے علاقوں رفح اور بیت حانون کے ماڈل پر تباہ کر دیا جائے گا"۔ انہوں نے کہا تھا کہ کارروائی کے اختتام پر فوج لبنان کے اندر دریائے لیطانی تک سکیورٹی زون میں تعینات رہے گی۔

ادھر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے 16 اپریل کو فائر بندی کے اعلان کے فوراً بعد اس بات پر زور دیا تھا کہ تل ابیب جنوبی لبنان میں 10 کلومیٹر کی گہرائی تک اپنے فوجی دستے برقرار رکھے گا۔

واضح رہے کہ حالیہ جنگ کا آغاز دو مارچ کو ہوا تھا جب اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کی پہلی لہر میں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت کے جواب میں ... حزب اللہ نے اسرائیل پر راکٹ داغے تھے۔

جواب میں اسرائیل نے لبنان کے کئی علاقوں میں بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے اور سرحد سے متصل جنوبی قصبوں میں زمینی یلغار کی، جہاں اس کی افواج تقریباً 55 دیہات میں داخل ہو چکی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں