جنگ بندی کی مسلسل امریکی خلاف ورزیاں سفارتی عمل میں رکاوٹ ہیں : ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 7 منٹ

ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے پیر کو جاری کردہ ایک بیان کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے پاکستانی ہم منصب اسحاق ڈار کو مطلع کیا ہے کہ "جنگ بندی کی مسلسل امریکی خلاف ورزیاں" سفارتی عمل کے تسلسل میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔
عراقچی نے اسحاق ڈار کو ایک ٹیلی فون کال میں یہ بھی بتایا کہ ایران معاملے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کرے گا کہ اسے کیسے آگے بڑھنا ہے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مذاکرات سے با خبر ایک امریکی ذریعے نے پیر کو فرانس پریس کو بتایا کہ ایک امریکی وفد ایران کے ساتھ مذاکرات کے نئے دور کے لیے پاکستان روانہ ہو رہا ہے۔

ذریعے نے کہا کہ وفد "جلد" روانہ ہو جائے گا، جبکہ امریکی صدر ڈونالد ٹرمپ نے اتوار کو اعلان کیا تھا کہ وہ 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے مذاکرات کی بحالی کی خاطر اپنا وفد پاکستانی دارالحکومت بھیجیں گے۔ یہ پیش رفت 8 اپریل کو دو ہفتوں کے لیے اعلان کردہ جنگ بندی کی مدت ختم ہونے سے پہلے ہوئی ہے۔

دوسری جانب ایک اعلیٰ پاکستانی حکومتی عہدے دار نے اعلان کیا ہے کہ اسلام آباد کو پورا بھروسہ ہے کہ وہ ایران کو امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں شرکت کے لیے قائل کر لے گا۔

روئٹرز کے مطابق نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر عہدے دار نے مزید کہا "ہمیں ایران کی جانب سے مثبت اشارہ ملا ہے۔ حالات ابھی غیر مستحکم ہیں، لیکن ہم اس بات کو یقینی بنانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں کہ جب منگل یا بدھ کو مذاکرات شروع ہوں تو وہ موجود ہوں۔"
انہوں نے یہ بھی اشارہ کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مقرر کردہ جنگ بندی کی آخری تاریخ قریب آنے کے ساتھ ہی پاکستان تہران اور واشنگٹن کے ساتھ مؤثر طریقے سے رابطے میں ہے۔

یہ بیان پیر کو ایک اعلیٰ ایرانی ذریعے کے اس انکشاف کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ تہران پاکستان میں امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات میں شرکت پر غور کر رہا ہے۔ یہ پیش رفت ایرانی بندرگاہوں کے امریکی محاصرے کو ختم کرنے کے لیے اسلام آباد کی کوششوں کے بعد ہوئی ہے، جو کہ امن کوششوں میں تہران کی دوبارہ شرکت کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

اسلام آباد سے، 10 اپریل (رائٹرز)
اسلام آباد سے، 10 اپریل (رائٹرز)

ذریعے کا کہنا تھا کہ تہران اپنی شرکت پر "مثبت انداز میں غور" کر رہا ہے، لیکن ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ روئٹرز کے مطابق یہ بیان ماضی کے ان بیانات کے مقابلے میں لہجے میں واضح تبدیلی کو ظاہر کرتے ہیں جن میں شرکت کو مسترد کیا گیا تھا اور امریکی محاصرے کا جواب دینے کا عہد کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ امریکی اور ایرانی فریقین کے درمیان براہ راست مذاکرات کا پہلا دور ایک ہفتہ سے زائد عرصہ قبل پاکستانی دارالحکومت میں منعقد ہوا تھا۔ یہ مذاکرات 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے تقریباً 40 دن بعد ہوئے تھے، تاہم ان کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا تھا کیونکہ بعض حساس معاملات ابھی تک حل طلب ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے پیر کو جاری کردہ ایک بیان کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے پاکستانی ہم منصب اسحاق ڈار کو مطلع کیا ہے کہ "جنگ بندی کی مسلسل امریکی خلاف ورزیاں" سفارتی عمل کے تسلسل میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔

عراقچی نے اسحاق ڈار کو ایک ٹیلی فون کال میں یہ بھی بتایا کہ ایران معاملے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کرے گا کہ اسے کیسے آگے بڑھنا ہے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مذاکرات سے با خبر ایک امریکی ذریعے نے پیر کو فرانس پریس کو بتایا کہ ایک امریکی وفد ایران کے ساتھ مذاکرات کے نئے دور کے لیے پاکستان روانہ ہو رہا ہے۔

ذریعے نے کہا کہ وفد "جلد" روانہ ہو جائے گا، جبکہ امریکی صدر ڈونالد ٹرمپ نے اتوار کو اعلان کیا تھا کہ وہ 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے مذاکرات کی بحالی کی خاطر اپنا وفد پاکستانی دارالحکومت بھیجیں گے۔ یہ پیش رفت 8 اپریل کو دو ہفتوں کے لیے اعلان کردہ جنگ بندی کی مدت ختم ہونے سے پہلے ہوئی ہے۔

اسلام آباد سے، 10 اپریل (رائٹرز)
اسلام آباد سے، 10 اپریل (رائٹرز)

دوسری جانب ایک اعلیٰ پاکستانی حکومتی عہدے دار نے اعلان کیا ہے کہ اسلام آباد کو پورا بھروسہ ہے کہ وہ ایران کو امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں شرکت کے لیے قائل کر لے گا۔

روئٹرز کے مطابق نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر عہدے دار نے مزید کہا "ہمیں ایران کی جانب سے مثبت اشارہ ملا ہے۔ حالات ابھی غیر مستحکم ہیں، لیکن ہم اس بات کو یقینی بنانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں کہ جب منگل یا بدھ کو مذاکرات شروع ہوں تو وہ موجود ہوں۔"

انہوں نے یہ بھی اشارہ کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مقرر کردہ جنگ بندی کی آخری تاریخ قریب آنے کے ساتھ ہی پاکستان تہران اور واشنگٹن کے ساتھ مؤثر طریقے سے رابطے میں ہے۔

یہ بیان پیر کو ایک اعلیٰ ایرانی ذریعے کے اس انکشاف کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ تہران پاکستان میں امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات میں شرکت پر غور کر رہا ہے۔ یہ پیش رفت ایرانی بندرگاہوں کے امریکی محاصرے کو ختم کرنے کے لیے اسلام آباد کی کوششوں کے بعد ہوئی ہے، جو کہ امن کوششوں میں تہران کی دوبارہ شرکت کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

ذریعے کا کہنا تھا کہ تہران اپنی شرکت پر "مثبت انداز میں غور" کر رہا ہے، لیکن ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ روئٹرز کے مطابق یہ بیان ماضی کے ان بیانات کے مقابلے میں لہجے میں واضح تبدیلی کو ظاہر کرتے ہیں جن میں شرکت کو مسترد کیا گیا تھا اور امریکی محاصرے کا جواب دینے کا عہد کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ امریکی اور ایرانی فریقین کے درمیان براہ راست مذاکرات کا پہلا دور ایک ہفتہ سے زائد عرصہ قبل پاکستانی دارالحکومت میں منعقد ہوا تھا۔ یہ مذاکرات 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے تقریباً 40 دن بعد ہوئے تھے، تاہم ان کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا تھا کیونکہ بعض حساس معاملات ابھی تک حل طلب ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں