واشنگٹن میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان سفیروں کی سطح کے مذاکرات کا دوسرا دور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکی محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان نے بتایا ہے کہ امریکہ جمعرات کو واشنگٹن میں محکمہ خارجہ کے صدر دفتر میں سفیروں کی سطح پر اسرائیلی لبنانی مذاکرات کے دوسرے دور کی میزبانی کرے گا۔

اپنی طرف سے اسرائیلی براڈکاسٹنگ اتھارٹی نے بتایا کہ تل ابیب اور بیروت کے درمیان جمعرات کو ہونے والے مذاکرات میں جنگ بندی میں توسیع کے امکان پر غور کرنے کے علاوہ زمینی سرحدوں کے معاملے پر بھی بحث کی جائے گی۔

یہ دور دہائیوں میں دونوں ممالک کے نمائندوں کے درمیان پہلی براہ راست ملاقات کے ایک ہفتے سے بھی کم وقت کے بعد ہو رہا ہے جہاں واشنگٹن میں امریکہ میں لبنان کی سفیرہ ندی حمادہ معوض اور ان کے اسرائیلی ہم منصب یحیل لیٹر کے درمیان امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی موجودگی میں ملاقات ہوئی تھی۔ لبنانی صدر جوزف عون نے تصدیق کی تھی کہ اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کا مقصد دشمنی کا خاتمہ، قبضے کا خاتمہ اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سرحدوں تک فوج کی تعیناتی ہے۔

جوزف عون نے پیر کے روز اپنے بیانات میں یہ بھی واضح کیا کہ اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کی ذمہ داری ایک وفد سنبھالے گا جس کی سربراہی سیمون کرم کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوئی دوسرا اس مشن میں شرکت نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور اسرائیلی فریق کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کے لیے امریکی انتظامیہ کے ساتھ رابطے جاری رہیں گے۔

اسی طرح جوزف عون نے اس بات کی دوبارہ تصدیق کی کہ آئندہ مذاکرات کسی بھی دوسرے مذاکرات سے الگ ہیں کیونکہ ملک کے سامنے دو ہی راستے ہیں، یا تو جنگ کا تسلسل اپنے انسانی، سماجی، معاشی اور خود مختاری کے اثرات کے ساتھ یا پھر مذاکرات اور ریاست نے مذاکرات کا انتخاب کیا ہے۔ دوسری طرف اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا خیال ہے کہ براہ راست مذاکرات لبنان کے ساتھ مستقل امن معاہدے کی راہ ہموار کرتے ہیں۔ انہوں نے ایران کے حمایت یافتہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا مطالبہ کیا جو اسرائیل کے خلاف کھلی جنگ لڑ رہی ہے۔

دس روزہ جنگ بندی

ٹرمپ نے گزشتہ جمعرات کو اعلان کیا تھا کہ لبنانی صدر اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے دس دن کی جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ اس معاہدے میں حزب اللہ بھی شامل ہو گی۔ انہوں نے ان مذاکرات کا بھی ذکر کیا جو بعد میں دونوں فریقوں کے درمیان ہوں گے۔

اس کے مقابلے میں حزب اللہ نے عارضی جنگ بندی کے بارے میں اپنی اس وقت تک وابستگی کی تصدیق کی ہے جب تک اسرائیلی افواج اس کی پابندی کریں گی۔ تاہم حزب اللہ نے آگ کے سائے میں اور لبنانی اراضی سے اسرائیلی انخلاء سے پہلے اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی مذمت کی۔ حزب اللہ نے یہ دھمکی بھی دی ہے کہ کوئی بھی وعدے یا معاہدے اس پر تب تک لازم نہیں ہوں گے جب تک انہیں ملک میں عوامی اتفاق رائے حاصل نہ ہو۔

واضح رہے لبنان 2 مارچ سے اس تنازع میں الجھا ہوا ہے جو ایک طرف ایران اور دوسری طرف اسرائیل اور امریکہ کے درمیان اس وقت پھوٹ پڑا جب حزب اللہ نے سابق ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے قتل کے انتقام میں اسرائیل کی طرف راکٹ داغے جس کے جواب میں اسرائیل نے بیروت کے جنوبی مضافات اور دارالحکومت کے دیگر علاقوں کے علاوہ ملک کے جنوب اور مشرقی بقاع میں شدید اور وسیع فضائی حملے کیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں