اس وقت جب لبنانیوں کی نظریں اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے دوسرے سیشن پر لگی ہوئی ہیں۔ ذرائع نے "العربیہ/الحدث" کو بتایا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں لبنان اور اسرائیل کے سفیروں کے درمیان ہونے والی ایک ملاقات میں شرکت کریں گے۔
اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے کہا ہے کہ بیروت اور تل ابیب کے درمیان مذاکرات کو امریکی وزارت خارجہ کی عمارت سے وائٹ ہاؤس منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ایک اعلیٰ سطح کے سرکاری لبنانی ذریعے نے جمعرات کو انکشاف کیا کہ واشنگٹن میں اسرائیل کے ساتھ آج کا اجتماع گزشتہ ہفتے کے اجتماع کا تسلسل ہے۔
اناطولو ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے کہ انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ لبنانی فریق جنگ بندی کی مہلت میں توسیع اور جنوب میں اسرائیلی افواج کے زیر قبضہ دیہاتوں میں مکانات کی مسماری روکنے کا مطالبہ کرے گا۔
اس ملاقات میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، امریکہ میں لبنان کی سفیر ندی حمادہ معوض اور واشنگٹن میں اسرائیلی سفیر یحیئيل لیٹر شرکت کریں گے۔ گزشتہ دور کی طرح لبنان میں امریکہ کے سفیر میشال عیسیٰ بھی موجود ہوں گے۔ تاہم اس مرتبہ مذاکرات میں اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی بھی شامل ہوں گے۔
دونوں ممالک، جو سن 1948 سے باضابطہ طور پر حالت جنگ میں ہیں، نے رواں ماہ 14 اپریل کو واشنگٹن میں مذاکرات کا ایک دور منعقد کیا تھا جو جنگ ختم کرنے کی کوشش میں سن 1993 کے بعد اپنی نوعیت کا پہلا دور تھا۔ پھر ان مذاکرات کے دو دن بعد امریکہ نے اس جنگ میں دس روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا جس کے نتیجے میں لبنان میں 2400 سے زیادہ افراد ہلاک اور دس لاکھ سے زائد بے گھر ہوئے تھے۔
تاہم اسرائیل نے جنگ بندی کے باوجود اپنی خلاف ورزیاں جاری رکھیں۔ اسی طرح حزب اللہ نے بھی اسرائیلی فوجیوں کے خلاف کارروائیاں کیں۔ یہ حملے مذاکراتی دور کی ناکامی کا باعث بنے۔ یاد رہے جنگ بندی کا جو معاہدہ امریکی وزارت خارجہ نے گزشتہ ہفتے شائع کیا تھا، اس میں یہ درج تھا کہ اسرائیل اپنے خلاف ہونے والی یا منصوبہ بند کارروائیوں کے مقابلے میں دفاعِ خود اختیاری کا حق برقرار رکھتا ہے۔
حزب اللہ نے اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات پر تنقید کرتے ہوئے حکومت پر رعایتیں دینے کا الزام لگایا اور مذاکرات میں جانے سے پہلے سیاسی اور عوامی اتفاق رائے حاصل نہ کرنے کا شکوہ کیا۔ واضح رہے حزب اللہ نے دو مارچ کو لبنان کا محاذ کھولا تھا باوجود اس کے کہ حکومت نے ایک طرف ایران اور دوسری طرف اسرائیل و امریکہ کے درمیان جاری تنازع میں ملوث ہونے سے انکار کیا تھا۔ تاہم لبنانی حکام نے بارہا کہا ہے کہ مذاکرات، جنگ اور امن کا فیصلہ انہی تک محدود ہے۔ حکومت نے کہا کہ مذاکرات کا انتخاب ملک کو مزید المیوں سے بچانے کا مقصد رکھتا ہے۔