کان کنی: سعودی عرب دنیا کے دس بڑے ملکوں میں شامل، 9.4 ٹریلین ریال کے ذخائر
کسٹم کلیئرنس کا اوسط وقت 9 گھنٹوں سے کم ہو کر 2 گھنٹے تک آگیا، لاجسٹک شعبہ میں بھی ترقی
سعودی عرب کے ’’ ویژن 2030 ‘‘ کی سالانہ رپورٹ سال 2025 سعودی عرب کی جانب سے سٹریٹجک اقتصادی شعبوں، خاص طور پر کان کنی، صنعت، لاجسٹک خدمات اور ڈیجیٹل تبدیلی میں حاصل کردہ تیز رفتار پیش رفت کو نمایاں کر رہی ہے۔ یہ رپورٹ اقتصادی تنوع کے راستے کی گہرائی اور عالمی سطح پر مملکت کی مسابقت میں اضافے کی عکاسی کر رہی ہے۔
سعودی عرب نے کان کنی کے شعبے میں معیاری پیش رفت درج کی ہے جہاں وہ کینیڈا کے فریزر انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے جاری کردہ مائننگ انویسٹمنٹ انڈیکس میں دنیا کے سرفہرست 10 ممالک میں شامل ہوگیا ہے۔ یہ پیش رفت اس سٹریٹجک شعبے میں سرمایہ کاری کے ماحول کی بہتری کی عکاسی کر رہی ہے۔ اسی طرح تخمینہ شدہ معدنی دولت کی قیمت 90 فیصد اضافے کے ساتھ تقریباً 9.4 ٹریلین ریال تک پہنچ گئی ہے جو اس سے قبل 4.9 ٹریلین ریال تھی۔ یہ سعودی زمین کے اندر موجود غیر استعمال شدہ صلاحیتوں کے بڑھنے کا اشارہ ہے۔
بے مثال صنعتی ترقی
سعودی عرب میں صنعتی شعبے میں بڑی توسیع دیکھنے میں آئی۔ فیکٹریوں کی تعداد 7,206 سے بڑھ کر 2025 کے اختتام تک 12,900 سے زائد ہو گئی۔ صنعتی سرمایہ کاری کا حجم بھی تقریباً 1.2 ٹریلین ریال تک پہنچ گیا جو مقامی مینوفیکچرنگ کی رفتار میں تیزی اور قومی معیشت کے اندر ویلیو چینز کی مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے۔
لاجسٹک شعبہ میں ترقی
لاجسٹک خدمات کے شعبے میں فعال لاجسٹک مراکز کی تعداد بڑھ کر 24 ہو گئی ہے جس کے ساتھ ہی کسٹم کے طریقہ کار کی کارکردگی میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے۔ کسٹم کلیئرنس کا اوسط وقت 9 گھنٹوں سے کم ہو کر 2 گھنٹوں سے بھی کم رہ گیا ہے، جس نے تجارت کی نقل و حرکت کو تیز کرنے اور سپلائی چین کی لاگت کو کم کرنے میں مدد دی ہے۔ لائسنس یافتہ ڈیپوزٹ زونز کی تعداد بھی 6 سے بڑھ کر 21 ہو گئی ہے۔ یہ ایک ایسا قدم ہے جو علاقائی لاجسٹک مرکز کے طور پر مملکت کی حیثیت کو مستحکم کرتا ہے۔
عالمی ڈیجیٹل قیادت
سعودی عرب نے عالمی ڈیجیٹل معیشت میں اپنی پوزیشن مستحکم کی ہے جہاں اس نے کئی بین الاقوامی اشاریوں میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ ٹیلی کمیونیکیشن اور ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ انڈیکس، ڈیجیٹل تیاری کے انڈیکس اور سائبر سیکیورٹی انڈیکس میں سعودی عرب نے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ یہ کامیابی ایک جدید اور لچکدار تکنیکی بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں ڈیجیٹل تبدیلی کی حکمت عملی کی کامیابی کی عکاسی کرتی ہے۔
یہ اشاریے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ سعودی ’’ ویژن 2030 ‘‘ کے تحت اقتصادی تبدیلی اب صرف مقداری ترقی تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کا دائرہ کار کان کنی، صنعت، لاجسٹک خدمات اور ڈیجیٹل تبدیلی کو فروغ دے کر سعودی معیشت کے ڈھانچے کی نئی تشکیل تک پھیل گیا ہے۔ یہ عالمی سطح پر ایک ابھرتی ہوئی اقتصادی، صنعتی اور تکنیکی طاقت کے طور پر مملکت کی حیثیت کو پختہ کرتا ہے۔