لبنان کے صدر جوزف عون نے پیر کو کہا ہے کہ اسرائیل سے براہِ راست مذاکرات کا مقصد حزب اللہ سے تنازعہ ختم کرنا ہے جبکہ لبنان کو جنگ میں گھسیٹنے پر ایرانی حمایت یافتہ مسلح گروپ پر "غداری" کا الزام لگایا۔
عون نے ایک بیان میں کہا، "میرا مقصد اسرائیل کے ساتھ حالتِ جنگ کو ختم کرنا ہے جو 1949 کے جنگ بندی معاہدے کی طرح ہو۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں ذلت آمیز معاہدہ قبول نہیں کروں گا۔"
انہوں نے کہا، "جنہوں نے لبنان میں ہمیں جنگ میں گھسیٹا، وہ اب ہم سے جواب طلب کر رہے ہیں کیونکہ ہم نے مذاکرات کی طرف جانے کا فیصلہ کیا۔ ہم جو کر رہے ہیں وہ غداری نہیں ہے بلکہ غداری کا ارتکاب ان لوگوں نے کیا ہے جو اپنے ملک کو غیر ملکی مفادات کے حصول کے لیے جنگ کی طرف لے جاتے ہیں"۔
-
جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملے، نیتن یاھو کی حزب اللہ کے اہداف پر بھرپور کارروائی کی ہدایت
لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ہفتے کی شب اسرائیلی جنگی طیاروں نے جنوبی ...
مشرق وسطی -
اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے سات دیہات خالی کرنے کا حکم دے دیا
اسرائیلی فوج نے اتوار کے روز جنوبی لبنان کے سات دیہات خالی کرنے کا حکم دیتے ہوئے ...
مشرق وسطی -
لبنان میں 14 ہلاکتیں،اسرائیل اور حزب اللہ کے ایک دوسرے پر جنگ بندی توڑنے کےالزامات
لبنانی وزارتِ صحت نے اتوار کی شام اعلان کیا کہ اسرائیل کی جانب سے جنوبی لبنان پر ...
مشرق وسطی