سعودی عرب نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ابنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ ایک مشترکہ عالمی ذمہ داری ہے، اور توانائی، خوراک اور ادویات کی ترسیل کے اہم راستوں کی حفاظت ناگزیر ہے۔
سعودی مؤقف کے مطابق دنیا اس وقت ابنائے ہرمز کے حوالے سے ایک غیر معمولی کشیدگی اور تنازع کا سامنا کر رہی ہے، جو عالمی معیشت کے لیے نہایت اہم آبی گزرگاہ ہے۔
مندوب السعودية بمجلس الأمن: المملكة تدعم جميع الجهود الرامية لخفض التصعيد pic.twitter.com/wuxrXTjTuo
— العربية (@AlArabiya) April 27, 2026
سعودی عرب نے بین الاقوامی برادری خصوصاً سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران کی جانب سے ہونے والے حملوں کی واضح مذمت کرے۔
ساتھ ہی ریاستوں کی خودمختاری کے احترام، طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی سے گریز اور حسنِ ہمسائیگی کے اصولوں کی پاسداری پر زور دیا گیا ہے۔
سعودی عرب نے ایران کی مبینہ خلاف ورزیوں کے خلاف مؤثر اقدامات اٹھانے اور آبی گزرگاہوں، خصوصاً توانائی اور خوراک کی ترسیل کے راستوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل مندوب ڈاکٹر عبدالعزیز الواصل نے سلامتی کونسل سے خطاب میں کہا کہ خلیج عرب کے خطے میں تیزی سے بدلتی صورتحال نے ابنائے ہرمز کے گرد ایک غیر معمولی تنازع کو جنم دیا ہے، جو نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی ایک اہم شریان کی حیثیت رکھتا ہے۔
مندوب السعودية بمجلس الأمن: ندين بشكل صريح الهجمات الإيرانية التي تعرضنا لها pic.twitter.com/xqHRobMCBN
— العربية (@AlArabiya) April 27, 2026
انہوں نے خبردار کیا کہ اس اسٹریٹجک گزرگاہ میں جہاز رانی کی آزادی کو لاحق کسی بھی خطرے کے براہِ راست اثرات عالمی توانائی منڈیوں، سپلائی چینز اور مجموعی عالمی اقتصادی استحکام پر مرتب ہوں گے۔
الواصل نے اس امر پر افسوس کا اظہار بھی کیا کہ سلامتی کونسل ابنائے ہرمز سے متعلق قرارداد منظور کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔
سعودی مندوب نے ایران پر زور دیا کہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کرے اور ابنائے ہرمز یا باب المندب میں عالمی جہاز رانی میں رکاوٹ ڈالنے یا سمندری سلامتی کو خطرے میں ڈالنے سے گریز کرے۔
مندوب السعودية بمجلس الأمن: ندعم التوصل لحل يجنب المنطقة مزيدا من عدم الاستقرار pic.twitter.com/O73buNZMIu
— العربية (@AlArabiya) April 27, 2026
انہوں نے واضح کیا کہ جہاز رانی کی آزادی میں خلل عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے ۔انھوں نے واضح کیا کہ اقوام متحدہ کے قانونِ سمندر کے تحت ان آبی راستوں کو کھلا رکھنا ضروری ہے۔
مزید برآں سعودی عرب نے جنگ بندی، کشیدگی میں کمی اور امن کے قیام کے لیے بین الاقوامی و علاقائی کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا اور دوست و برادر ممالک کی ثالثی کوششوں کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کی امن کوششوں کو سراہا۔
مندوب السعودية بمجلس الأمن: ندعم جهود باكستان الجارية للتوصل إلى حل pic.twitter.com/dcWiRrDKn5
— العربية (@AlArabiya) April 27, 2026
سعودی عرب نے پاکستان کی جانب سے مستقل امن معاہدے کے لیے کی جانے والی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا۔
آخر میں ڈاکٹر عبدالعزیز الواصل نے اس بات پر زور دیا کہ پائیدار امن اور استحکام کے لیے مکالمہ اور سفارت کاری ہی واحد مؤثر راستہ ہیں، ایران کو سلامتی کونسل کی قرارداد 2817 سمیت اپنی تمام بین الاقوامی ذمہ داریوں پر عمل کرنا چاہیے۔