سعودی عرب کی عالمی امن و استحکام کے لیے سفارتی مساعی کی حمایت کے عزم کا اعادہ

ولی عہد کی جانب سے مملکت کی میزبانی میں ہونے والی مشاورتی سربراہی کانفرنس میں خلیجی رہنماؤں کی کاوشوں کی ستائش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت کابینہ کے اجلاس میں علاقائی و بین الاقوامی صورتحال کے تازہ ترین حالات بالخصوص خطے کی تبدیلیوں اور ان کے سکیورٹی و اقتصادی اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ان معاملات پر مملکت کے مستقل موقف کا اعادہ کیا گیا اور عالمی امن و استحکام کی بنیادیں استوار کرنے کے مقصد سے کی جانے والی تمام سفارتی کوششوں کی مسلسل حمایت کا اعادہ کیا گیا۔

خلیجی ممالک کے مابین تعاون

سعودی ولی عہد نے خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے قائدین کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے سعودی عرب کی میزبانی میں منعقدہ (خلیجی مشاورتی سربراہی اجلاس) میں بھرپور کوششیں کیں۔ یہ اجلاس باہمی روابط اور مشاورت کے فروغ سمیت خطے کی سکیورٹی اور استحکام کے حصول کے لیے کوآرڈینیشن اور مشترکہ ورکنگ کے تمام پہلوؤں کی حمایت کے فریم ورک کے تحت منعقد کیا گیا تھا۔

اجلاس کے آغاز میں ولی عہد نے کابینہ کو اس مکتوب کے مندرجات سے آگاہ کیا جو خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو جمہوریہ جیبوتی کے صدر اسماعیل عمر جيلہ کی جانب سے موصول ہوا، جس کا تعلق دونوں برادر ممالک کے دوطرفہ تعلقات سے ہے۔

شہزادہ محمد بن سلمان نے کابینہ کو شام کے صدر احمد الشرع، لبنان کے صدر جوزف عون، سوئس فیڈریشن کے صدر غی بارميلان اور یوکرین کے صدر فولوديمير زيلينسکی کے ساتھ ہونے والی اپنی مشاورت اور بات چیت کے مجموعی احوال سے مطلع کیا۔ مزید برآں انہوں نے جاپان کی وزیراعظم سانای تاکايئچی، جمہوریہ چیک کے وزیراعظم آندرے بابيش اور بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمن کے ساتھ ہونے والے مذاکرات سے بھی آگاہ کیا۔

اقتصادی تناظر میں کابینہ نے داخلی معاملات سے متعلق متعدد رپورٹس اور رویژن 2030 کے تحت حاصل ہونے والی گوناگوں کامیابیوں پر غور کیا۔ اس وژن کے اہداف ترقیاتی سفر میں معاون ثابت ہو رہے ہیں اور غیر تیل کے شعبوں کی شراکت میں اضافے کے ذریعے ایک زیادہ متنوع اور لچکدار معاشی ماڈل کو مستحکم کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پیداواری و سرمایہ کاری کے دائرہ کار کو وسعت دینے اور قومی توانائیوں اور دولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے خصوصی قومی پروگراموں اور حکمت عملیوں کا آغاز کیا گیا ہے تاکہ عالمی تبدیلیوں کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت کو بڑھایا جا سکے۔

کابینہ نے اس بات کو بھی سراہا کہ ویژن 2030 نے اپنے پہلےاور دوسرے مرحلے میں جو کامیابیاں حاصل کی ہیں ان سے اہداف اپنے بڑے مقاصد کے حصول کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ کارکردگی کے کلیدی اشاریوں میں سے 93 فیصد نے اپنے سالانہ اہداف حاصل کر لیے ہیں۔ یہ کامیابی ان ڈھانچہ جاتی، اقتصادی، مالیاتی اور قانون سازی کی اصلاحات کا نتیجہ ہے جنہوں نے مختلف شعبوں کو بااختیار بنایا، سرمایہ کاری کو راغب کیا، معیار زندگی کو بہتر بنایا اور عالمی سطح پر مملکت کے مقام اور مسابقت کو مستحکم کیا۔

اسی فریم ورک کے اندر سعودی کابینہ نے (تیسرے) مرحلے میں اثرات کے تسلسل، کام کی رفتار کو تیز کرنے اور ترقی و خوشحالی کے تسلسل کے لیے کوششوں کو دوگنا کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ کابینہ نے سنہ 2026ء کے لیے "ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو اپنانے کی تیاری کے اشاریے" میں حکومتی اداروں کی نمایاں ترقی کی تعریف کی، جو جدید خدمات کی فراہمی کے ذریعے ڈیجیٹل انضمام، پیداواری صلاحیت میں اضافے اور کام کی تکمیل میں تیزی لانے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی درجہ بندیوں اور اشاریوں میں اپنی برتری برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں