ایران کے ایٹمی عزائم برقرار، ہم اس پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں: امریکی وزیر دفاع
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ واشنگٹن نے ایران میں ناقابل یقین کامیابیاں حاصل کرلی ہیں ۔ تاہم انہوں نے کہا تہران کے ایٹمی عزائم برقرار ہیں، لیکن امریکی انتظامیہ اس پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
ہیگستھ نے ایران میں جنگ کے بارے میں کانگریس میں اپنا پہلا بیان دیتے ہوئے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہمت کا مظاہرہ کیا کہ ایران کے پاس کبھی ایٹمی ہتھیار نہ ہوں۔
تہران کا مقابلہ کرنا ضروری تھا
پیٹ ہیگستھ نے مزید کہا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے اس کا مقابلہ کرنا ضروری تھا ۔ ایران کے اب بھی ایٹمی عزائم ہیں اور واشنگٹن چوبیس گھنٹے اس کی نگرانی کر رہا ہے۔ مزید برآں انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ کوئی دلدل نہیں ہے اور ڈیموکریٹک قانون سازوں کی تنقید ایران کو پروپیگنڈا کی فتح فراہم کرتی ہے۔
پیٹ ہیگستھ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کو خطرات کے ایک پیچیدہ ماحول کا سامنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پینٹاگون کے بجٹ کا مقصد طاقت کے ذریعے امن قائم کرنا ہے۔ امریکی وزیر نے مزید کہا کہ ہماری جنگی صنعتیں دنیا میں دوبارہ برتری حاصل کر رہی ہیں۔ امریکی فوج کو واضح بدانتظامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ اسے دوبارہ تشکیل دے رہی ہے۔
ہم روکنے کے لیے تیار ہیں
دوسری جانب امریکی جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہم امریکہ کے دفاع کے لیے روک تھام اور تمام ضروری جنگیں لڑنے کے لیے تیار ہیں۔ ہم نے اپنے آپریشنز میں کئی پیچیدہ مشن مکمل کر لیے ہیں۔ ہمارا مقصد عالمی چیلنجوں کا جواب دینا جاری رکھنا ہے۔
یاد رہے 28 فروری کو ایران پر پہلے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد سے ریپبلکن اور ڈیموکریٹک دونوں جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ امریکی انتظامیہ پر تنقید کر رہے ہیں کہ وہ اس سلسلے میں کانگریس کو بریفنگ نہیں دے رہی۔ کانگریس کے ارکان کو باقاعدگی سے ایسی معلومات فراہم کرنا معمول ہے جو دفاعی راز کے زمرے میں آتی ہیں۔
یہ پیش رفت اس وقت ہوئی جب جنگ ختم کرنے کے لیے واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔ امریکی اور ایرانی براہ راست طویل مذاکرات کا پہلا دور رواں اپریل کے آغاز میں پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں ہوا تھا لیکن یہ مذاکرات بے نتیجہ رہے تھے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے خصوصی ایلچی سٹیو وِٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر سے کہا کہ وہ گزشتہ ہفتہ کو پاکستان کا سفر نہ کریں جہاں ان کی ملاقات ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ہونے کا امکان تھا۔ عراقچی بظاہر حل کے لیے ایک نئی ایرانی تجویز لے کر آئے تھے۔ تاہم امریکی ذرائع نے بعد میں بتایا کہ یہ ایرانی تجویز ٹرمپ کو پسند نہیں آئی تھی۔
پاکستان کی جانب سے دونوں ملکوں کے وفود کو اسلام آباد میں اکٹھا کرنے کی کوششیں جاری ہیں تاکہ مذاکرات کا دوسرا دور جاری رکھا جا سکے اور امریکہ اور ایران کو قریب لایا جا سکے تاکہ 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے تک پہنچا جا سکے۔