واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات میں جمود کے باوجود سفارتی کوششیں نہیں رکی ہیں۔ ایک اعلیٰ امریکی عہدے دار نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر، اب بھی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ مسودات اور پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں۔
اس عہدے دار نے پیر کے روز مزید کہا کہ مذاکرات ہو رہے ہیں اور تجاویز بھی سامنے آ رہی ہیں، لیکن ہمیں ان کی پیشکش پسند نہیں اور انہیں ہماری پیشکش پسند نہیں۔ انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی پیغامات ہاتھ کے ذریعے غاروں یا اس جگہ پہنچاتے ہیں جہاں رہبر اعلیٰ یا ان کا کوئی نمائندہ چھپا ہوتا ہے، جس کی وجہ سے ویب سائٹ "AXIOS" کے مطابق مذاکراتی عمل سست ہو جاتا ہے۔
انہوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ امریکی انتظامیہ اب بھی ایرانی رہبر مجتبیٰ خامنہ ای کی صورت حال سے بے خبر ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے دو اختیارات کا ذکر کیا : یا تو ایسا معاہدہ طے پا جائے جس پر عمل درآمد ممکن ہو، یا پھر دوبارہ سے شدید بم باری شروع کر دی جائے۔
دوسری جانب عہدے دار نے انکشاف کیا کہ آبنائے ہرمز میں آپریشن کا مقصد "نہ امن، نہ جنگ" کی صورت حال کو تبدیل کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ جمود کی حالت سے اکتا چکے ہیں اور آبنائے ہرمز کے آپریشن کے ذریعے ایران پر دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ امریکی افواج کے لیے قواعدِ جنگ میں ترمیم کر دی گئی ہے، جس کے تحت اب افواج آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کے لیے کسی بھی خطرے پر حملہ کر سکیں گی۔
امریکی صدر کے قریبی ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کا آپریشن تہران کے ساتھ ایک نئے تصادم کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ اتوار کی شام آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمد و رفت کو محفوظ بنانے کے لیے "آزادی منصوبہ" کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر ایک پوسٹ میں کہا کہ امریکہ پیر سے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی نگرانی اور حفاظت کرے گا اور دنیا بھر کے ممالک نے اس کی درخواست کی ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران، مشرق وسطیٰ اور امریکہ کے مفادات کی خاطر ہم نے ان ممالک کو مطلع کر دیا ہے کہ ہم ان کے جہازوں کی ان ممنوعہ آبی گزرگاہوں سے بحفاظت نکلنے میں رہنمائی کریں گے تاکہ وہ اپنی سرگرمیاں آزادی اور مہارت کے ساتھ جاری رکھ سکیں۔ تاہم امریکی صدر نے اس مشن کے طریقہ کار کے بارے میں زیادہ تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
واضح رہے کہ فروری کے آخر سے ایرانی افواج نے عملی طور پر آبنائے ہرمز کو بند کر رکھا ہے، جہاں سے دنیا بھر کی تیل اور گیس کی ترسیل کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں تیل، گیس اور کھاد کی بنیادی سپلائی میں خلل پڑا ہے۔ دوسری طرف امریکہ نے 13 اپریل سے ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ کر رکھا ہے جو تا حال جاری ہے۔
-
آبنائے ہرمز کو ’ہم آہنگی سے دوبارہ کھولیں‘: میکرون کا امریکہ، ایران پر زور
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے پیر کو امریکہ اور ایران پر زور دیا ہے کہ وہ آبنائے ...
بين الاقوامى -
ایران کا دعویٰ: امریکی جنگی جہاز کو واپس پلٹنے پر مجبور کر دیا، سینٹ کام کی جانب سے تردید
آبنائے ہرمز میں امریکی بحریہ کا کوئی جہاز نشانہ نہیں بنا: مرکزی کمان
مشرق وسطی -
سفاکانہ انتقام،بیرون ملک مخالفین کے خلاف ایران کی خفیہ جنگ
لندن میں ایرانی سفارت خانے کی جانب سے برطانوی مقیم ایرانیوں کو "وطن کے لیے قربانی" ...
مشرق وسطی