اسرائیلی عدالت میں پیر کا دن وزیر اعظم نیتن یاہو کے خلاف مقدمات کی سماعت کے لیے مقرر تھا۔ اس روز نیتن یاہو کو اپنا بیان ریکارڈ کرنے کا کہا گیا تھا۔ مگر یہ معاملہ عدالت نے اچانک بیان ریکارڈ کرنے کو موخر کر کے ایک بار پھر لٹکا دیا اور وزیر اعظم نیتن یاہو کو ریلیف کا احساس مل گیا۔
اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ عدالتی کارروائی میں یہ نیتن یاہو کے لیے عارضی ریلیف کا اہتمام راتوں رات ان کے وکیل کی طرف سے ملنے والی اپ ڈیٹس کی فراہمی کے باعث دیا گیا ہے۔ چھٹی بار اسرائیلی وزیر اعظم بننے والے نیتن یاہو تین کرپشن کیسز کا سامنا کر رہے ہیں۔
تاہم پیر کے روز چینل 24 نیوز نے رپورٹ کیا 'سماعت آج نہیں ہوگی۔ یہ سماعت رات کے وقت وزیر اعظم کے وکیل کی جانب سےعدالت کو بھیجے گئے 'اپ ڈیٹس' کےبعد اچانک ملتوی کی گئی ہے۔' مگر مزید کوئی تفصیل سامنے نہیں لائی گئی ہے۔
اس سے قبل اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو 28 اپریل کو عدالت میں پیش ہوئے تھے۔ 28 فروری کو ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ کے بعد یہ پہلی پیشی تھی۔ ان کے خلاف 2019 سے کرپشن کیسز کی سماعت بار بار تعطل کا شکار ہو رہی ہے۔ پہلے غزہ میں لڑی گئی طویل جنگ نیتن یاہو کو فائدہ پہنچا گئی اور سماعت مؤخر ہوتی رہی ، اب ایران کے خلاف جنگ جاری ہے۔