غزہ کی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ بدھ کے روز بھی اسرائیلی فوج نے غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری رکھتے ہوئے کئی افراد کو قتل کر دیا ہے۔ ان میں حماس کے چیف مذاکرات کار کا بیٹا بھی شامل ہے جسے بدھ کے روز قتل کیا گیا ہے۔
علاوہ ازیں وزارت صحت کے مطابق وزارت داخلہ میں کام کرنے والے ایک پولیس افسر کو بھی اسرائیلی حملے میں قتل کیا گیا ہے۔ یاد رہے امریکی صدر کی ضمانت کی بنیاد پر غزہ میں اسرائیل نے دس اکتوبر 2025 سے جنگ بندی قبول کر رکھی ہے، مگر اس کے باوجود غزہ میں اسرائیلی فوج کے حملے جاری رکھے گئے ہیں۔
بدھ کے روز کیے گئے اسرائیلی فوج کے اس حملے میں پانچ فلسطینی ان کے علاوہ بھی شہید ہوئے ہیں۔ یہ بات مقامی شہری دفاع سے متعلق ایمرجنسی خدمات دینے والے ادارے نے بتائی ہے۔
غزہ میں قائم ال اہلی ہسپتال نے اس حملے بعد تین لاشوں کے علاوہ کئی زخمیوں کو بھی اپنے ہاں درج کیا ہے۔ یہ اسرائیلی حملہ ڈرون طیارے کی مدد سے غزہ کے جنوب مشرقی حصے میں کیا گیا تھا۔
ایک اور اسرائیلی حملے کے دوران غزہ سٹی میں بھی ایک فلسطینی کو قتل کر دیا گیا ہے۔ جبکہ دس کو زخمی کیا گیا ہے۔ ان زخمیوں میں خلیل الحیہ کا بیٹا بھی شامل ہے۔ یہ بات ہسپتال کے ذرائع نے بھی تصدیق کر کے بتائی ہے۔
خلیل الحیہ کے بیٹے کانام عزام خلیل الحیہ بتایا گیا ہے۔ 'اے ایف پی' کے مطابق عزام خلیل شدید زخمی ہوا ہے۔
غزہ کے دیگر علاقوں میں کیے گئے اسرائیلی حملوں کے دروان متعدد زخمیوں کے ساتھ ساتھ دو فلسطینی جاں بحق بھی ہو گئے ہیں۔ طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ حماس کی پولیس فورس میں بطور کرنل کام کرنے والے نسیم الکلاذنی بھی جاں بحق ہو گئے ہیں۔ انہیں المواصی خان یونس میں بھی نشانہ بنایا گیا۔وہ انسداد منشیات فورس کے سربراہ تھے۔