امریکی فوج: ایران کے خلاف جوابی حملے کر رہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی فوج نے کہا کہ اس نے جمعرات کو ایران پر جوابی حملے کیے اور ان مقامات کو نشانہ بنایا جہاں سے اس کے مطابق اس پر حملے کیے گئے۔ انہیں فوج نے تہران کی طرف سے بلا اشتعال دشمنی قرار دیا۔

قبل ازیں ایران کی اعلیٰ مشترکہ فوجی کمان نے کہا تھا کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والے ایک ایرانی آئل ٹینکر اور دوسرے جہاز کو نشانہ بنا کر اور شہری علاقوں پر حملہ کر کے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی۔

فوج نے ایک بیان میں کہا، "امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اندرونِ ملک خطرات کو ختم کیا اور ایرانی فوجی تنصیبات بشمول میزائل اور ڈرون لانچ سائٹس کو نشانہ بنایا جہاں سے امریکی افواج پر حملے ہوئے؛ کمانڈ اور کنٹرول کے مقامات؛ انٹیلی جنس، نگرانی اور جاسوسی نوڈز۔"

نیز کہا کہ جب امریکی بحریہ کے تین تباہ کن جہازوں ٹرکسٹن، پرالٹا اور میسن نے خلیج عمان جانے کے لیے آبنائے عبور کی تو ایران نے متعدد میزائل، ڈرون اور چھوٹی کشتیوں سے حملہ کیا۔ تاہم ایرانی حملوں سے امریکی فوجی اثاثہ جات کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

بیان میں مزید کہا گیا، "سینٹ کام کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتا لیکن امریکی افواج کی حفاظت کے لیے پوزیشن سنبھالے ہوئے اور تیار ہے۔"

یہ فوراً واضح نہیں ہو سکا کہ اس کا گذشتہ ماہ طے پانے والی جنگ بندی پر کیا اثر ہو گا لیکن امریکی مرکزی کمان نے ان حملوں کو اپنے دفاع میں کیے گئے حملے قرار دیا۔

واشنگٹن امریکی تجویز پر ایران کے جواب کا ہنوز انتظار کر رہا ہے لیکن ایران کے جوہری پروگرام جیسے انتہائی متنازعہ مسائل کو تاحال حل نہیں کیا جا سکا۔

مذکورہ امریکی تجویز باضابطہ طور پر یہ تنازعہ ختم کر دے گی۔ لیکن اس سے اہم امریکی مطالبات پورے ہونے کی امید نہیں ہے کہ ایران اپنا جوہری پروگرام معطل کر دے اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں