اسرائیلی افواج نے مسلسل دوسرے روز بھی جنوبی لبنان کے متعدد قصبوں پر فضائی حملوں کی لہر جاری رکھی۔
العربیہ/الحدث کی نامہ نگار نے آج ہفتے کے روز اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی فضائی حملوں نے جنوب میں حاروف، کفر تبنيت، حداثا اور النبطيۃ کے علاوہ برج رحال، جناتا، السكسكيۃ اور العباسيۃ کے قصبوں کو نشانہ بنایا۔
انہوں نے برج رحال کو نشانہ بنانے والے حملے میں 3 افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی۔ مزید برآں بیروت کو صیدا سے ملانے والی سڑک پر السعدیات کے علاقے میں ایک گاڑی کو بھی فضائی حملے کا نشانہ بنایا گیا۔
قومی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ڈرون طیاروں نے "بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے (ضاحیہ) کے اوپر کم بلندی پر پروازیں کیں"۔ دوسری جانب لبنانی وزارت صحت نے بتایا کہ جنوبی لبنان کے شہر النبطيۃ میں اسرائیلی حملے کے نتیجے میں ایک شامی شہری جاں بحق اور اس کی بیٹی زخمی ہو گئی۔ اس کے مقابلے میں اسرائیلی فوج نے کہا کہ حزب اللہ نے شمالی اسرائیل کی جانب ایک بارود بردار ڈرون روانہ کیا۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب اسرائیلی فوج نے آج حملوں کی تیاری کے سلسلے میں 9 دیہات کو فوری طور پر خالی کرنے کا حکم دیا۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان افيخائی ادرعی نے "ایکس" پر طير دبّا، العباسيۃ، برج رحال، معروب، باريش، أرزون اور ضلع صور کے علاقوں جنّاتا، الزراريۃ اور عين بعال کے رہائشیوں سے کہا کہ وہ انہیں فوری طور پر خالی کر دیں اور کھلے علاقوں کی طرف کم از کم ایک ہزار میٹر دور چلے جائیں۔
ایک گذشتہ بیان میں اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ اس نے چوبیس گھنٹوں کے دوران فضائی اور زمینی کارروائیوں میں مختلف علاقوں میں حزب اللہ کے 85 سے زائد بنیادی ڈھانچوں کو نشانہ بنایا ہے۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ ان حملوں میں اسلحہ کے گودام، لانچنگ پیڈز اور وہ تنصیبات شامل تھیں جنہیں تنظیم "اسرائیلی ریاست اور فوج کے خلاف دہشت گردانہ منصوبوں کو آگے بڑھانے کے لیے"استعمال کرتی تھی۔
اسی طرح یہ بھی اعلان کیا گیا کہ مشرقی لبنان کے علاقے بقاع میں حزب اللہ کی اسلحہ سازی کی ایک زیرِ زمین جگہ کو نشانہ بنایا گیا، نیز جنوبی لبنان میں ان عناصر کو بھی نشانہ بنایا گیا جو مبینہ طور پر "اسرائیلی فوج کے خلاف دہشت گردانہ منصوبوں پر عمل پیرا تھے"۔ دوسری طرف حزب اللہ نے گذشتہ جمعے کو اعلان کیا تھا کہ اس نے بدھ کے روز بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے پر ہونے والے حملے اور جنوب میں جاری بمباری کے جواب میں اسرائیل کے اندر فوجی اڈوں پر راکٹ اور ڈرون داغے ہیں۔
واضح رہے کہ گذشتہ 16 اپریل سے جنگ بندی معاہدہ نافذ ہونے کے باوجود اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے درمیان روزانہ کی بنیاد پر فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے، خاص طور پر جنوبی لبنان میں۔
دونوں فریقوں کے درمیان تصادم اس وقت شدت اختیار کر گیا تھا جب حزب اللہ نے 2 مارچ کو ایرانی مرشد علی خامنہ ای کے قتل کے جواب میں شمالی اسرائیل کی طرف راکٹ داغے تھے۔ اس کے بعد جنوب، بقاع اور بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے پر اسرائیلی فوج کے شدید رد عمل کے نتیجے میں لبنانی سرکاری اندازوں کے مطابق 2500 سے زائد لبنانی جاں بحق، ہزاروں زخمی اور 10 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
-
لبنانی وزیرِ اعظم کا دمشق کا دورہ... سرحدیں اور حزب اللہ مذاکرات کا محور
لبنانی وزیرِ اعظم نواف سلام کل ہفتے کے روز شام کے دارالحکومت دمشق کا ایک سرکاری ...
مشرق وسطی -
حزب اللہ مالی نیٹ ورک دوبارہ سرگرم، لبنان میں تحقیقات تیز ہونے کا خدشہ
اسرائیل کی جانب سے حالیہ جنگ میں اپنے شاخوں پر منظم حملوں میں تیزی کے بعد حزب اللہ ...
مشرق وسطی -
اسرائیل کی حزب اللہ کے 85 ٹھکانوں پر کارروائی کرنے کا دعوی
جنوبی لبنان میں کل ہونے والی وسیع فضائی کارروائیوں کے بعد اسرائیلی فوج نے اعلان ...
مشرق وسطی