سعودی فیشن فنڈ: مقامی برانڈز کو عالمی سطح پر لے جانے کے لیے 300 ملین ریال مختص

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

سعودی عرب میں فیشن کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے حال ہی میں اپنی نوعیت کا پہلا نجی ملکیتی فیشن انویسٹمنٹ فنڈ قائم کیا گیا ہے۔ یہ فنڈ ثقافتی فنڈ اور میراک کیپیٹل کے درمیان شراکت داری کے نتیجے میں عمل میں آیا ہے جو ثقافتی شعبوں میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری کی عکاسی کرتا ہے۔ اس فنڈ کی کل مالیت تقریباً 300 ملین ریال ہے۔

یہ فنڈ فیشن سیکٹر کی مکمل ویلیو چین میں سرمایہ کاری پر توجہ مرکوز کرتا ہے جس میں ملبوسات، جوتوں، ایکسیسریز، زیورات، عطر اور میک اپ کی مصنوعات کی ڈیزائننگ سے لے کر سپلائی چین کی ترقی تک کے مراحل شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ای کامرس کے ذرائع کو مضبوط بنانا اور مقامی برانڈز کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ اختراع اور توسیع کے ذریعے علاقائی اور عالمی سطح پر مقابلہ کر سکیں تاکہ مملکت کو فیشن کے ایک علاقائی مرکز کے طور پر منوایا جا سکے۔

اس تناظر میں فنڈ اپنی سرمایہ کاری کو مختلف مراحل پر تقسیم کر رہا ہے تاکہ سعودی کمپنیوں اور برانڈز کو عالمی سطح تک پہنچنے میں مدد مل سکے۔ سعودی ثقافتی فنڈ نے مرکزاطلاعات فلسطین کی طرز پر العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ نئے پلیٹ فارم زیا (ZYA) میں بطور مرکزی سرمایہ کار اس کا حصہ 40 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ یہ فیشن فنڈ اس شعبے میں سرمایہ کاری کی ساخت میں ایک بڑی تبدیلی ثابت ہو گا۔

ثقافتی فنڈ کے مطابق میراک کیپیٹل اس فیشن فنڈ کے معاملات کی نگرانی کرے گی۔ زیا (ZYA) کا مقصد ایک ایسا مربوط سرمایہ کاری نظام بنانا ہے جو سعودی برانڈز کی نمو میں مددگار ہو۔ یہ ان پر عزم سعودی کمپنیوں کو ہدف بنائے گا جو ترقی اور پھیلاؤ کے مرحلے میں داخل ہونا چاہتی ہیں۔ فنڈ ان کمپنیوں کو ادارہ جاتی سرمایہ فراہم کرے گا تاکہ وہ نئی منڈیوں میں داخل ہو سکیں اور روایتی ریٹیل یا ای کامرس کے ذریعے فروخت کے ذرائع کو بہتر بنا سکیں۔

فنڈ کا کردار محض مالی مدد تک محدود نہیں بلکہ یہ ان کمپنیوں کے مالیاتی اور آپریشنل ڈھانچے کو بھی بہتر بنائے گا تاکہ جب یہ کمپنیاں پختگی کے مرحلے پر پہنچیں تو انہیں اسٹاک مارکیٹ میں لسٹنگ کے لیے تیار کیا جا سکے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کی معلومات کے مطابق توقع ہے کہ فیشن فنڈ آنے والے عرصے میں اپنی پہلی سرمایہ کاری کا اعلان کر دے گا جو اس کی حکمت عملی کے باقاعدہ آغاز کا اشارہ ہو گا۔

یہ قدم مملکت میں فیشن کے شعبے میں تیزی سے ہونے والی ترقی کے سائے میں اٹھایا گیا ہے۔ سنہ 2025ء کی رپورٹ کے مطابق فیشن کا شعبہ ملکی مجموعی قومی پیداوار میں 2.6 فیصد حصہ ڈال رہا ہے جو کہ تقریباً 33.6 ارب ڈالر کے برابر ہے، جبکہ سنہ 2024ء میں یہ حجم 27.2 ارب ڈالر تھا یعنی ایک سال میں 6.4 ارب ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

روزگار کے حوالے سے بھی اس شعبے نے سنہ 2024ء میں 3 لاکھ 43 ہزار ملازمتیں فراہم کیں جبکہ گذشتہ برس یہ تعداد 3 لاکھ 20 ہزار تھی۔ اس شعبے میں سعودی خواتین کی شرکت نمایاں ہے جو کل افرادی قوت کا 55 فیصد ہیں جو معاشی اور سماجی بااختیار بنانے میں اس شعبے کے کردار کو واضح کرتا ہے۔

ڈیجیٹل تبدیلی کے حوالے سے بھی اس شعبے میں غیر معمولی نمو دیکھی گئی ہے۔ "مدی" نیٹ ورک کے ذریعے آن لائن فروخت سنہ 2019ء میں 2.75 ارب ڈالر سے بڑھ کر سنہ 2024ء میں 53 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے جس نے مقامی برانڈز کے لیے صارفین تک رسائی کے وسیع مواقع فراہم کیے ہیں۔

ان اشاریوں کی روشنی میں زیا (ZYA) فنڈ محض ایک مالیاتی بازو کے طور پر نہیں بلکہ سعودی عرب میں فیشن کے شعبے کی نئی تشکیل کرنے والے ایک انجن کے طور پر سامنے آیا ہے۔ یہ مقامی برانڈز کو عالمی سطح پر پہنچا کر ملکی معیشت میں اپنا حصہ بڑھائے گا جو کہ سعودی وژن 2030ء کے متنوع اور پائیدار معیشت کے اہداف کے عین مطابق ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں