ایران کی ناکہ بندی میں 20 سے زیادہ جنگی بحری جہاز شریک ہیں: امریکی فوج

انتباہ پر عمل نہ کرنے والی 4 ایرانی بحری جہازوں کو روک لیا، 61 تجارتی جہازوں نے اپنا راستہ بدل لیا: سینٹ کام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی فوج نے اتوار کو کہا ہے کہ ایران پر محاصرہ نافذ کرنے میں 20 سے زیادہ جنگی جہاز حصہ لے رہے ہیں۔ سینٹ کام نے کہا کہ اس نے 4 ایرانی جہازوں کو انتباہات کی تعمیل نہ کرنے پر روکا ہے۔ یہ بھی کہا کہ ایران پر عائد ناکہ بندی کے نتیجے میں 61 تجارتی جہاز اپنا راستہ تبدیل کر چکے ہیں۔ واشنگٹن نے گزشتہ ماہ ایرانی جہازوں پر ناکہ بندی نافذ کی تھی۔

ایران کی خبر رساں ایجنسی "ارنا" نے قبل ازیں بتایا تھا کہ ایران نے جنگ ختم کرنے کے لیے تازہ ترین امریکی تجویز پر اپنا جواب پاکستان کے حوالے کر دیا ہے۔ ایرانی ایجنسی نے مزید کہا کہ مجوزہ منصوبے میں اس مرحلے پر مذاکرات کا محور جنگ کے خاتمے اور خلیج و آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی کی سلامتی پر توجہ مرکوز کرنا شامل ہے۔

ایجنسی "ارنا" نے خبر دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے آج اتوار کو پاکستانی ثالث کے ذریعے جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کی تجویز کردہ تازہ ترین تحریر پر اپنا جواب بھیج دیا ہے۔ تاہم اس کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

تہران نے آبنائے ہرمز سے تقریبا تمام غیر ایرانی جہازوں کے گزرنے پر پابندی لگا رکھی ہے۔ اس آبنائے سے جنگ سے پہلے عالمی تیل کی سپلائی کا تقریباً 20 فیصد گزرتا تھا۔ گزشتہ چند دنوں میں آبنائے ہرمز اور اس کے گرد و نواح میں تصادم میں اس وقت سے اب تک کا سب سے بڑا اضافہ دیکھا گیا ہے جب سے ایک ماہ قبل جنگ بندی نافذ ہوئی تھی اور جمعہ کو متحدہ عرب امارات کو نئے حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔

نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی "فارس" نے کہا ہے کہ جمعہ کو آبنائے ہرمز میں ایرانی افواج اور امریکی جہازوں کے درمیان متفرق جھڑپیں ہوئیں۔ امریکی فوج نے کہا ہے کہ اس نے ایران سے وابستہ دو بحری جہازوں کو نشانہ بنایا جنہوں نے ایک ایرانی بندرگاہ میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی اور انہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں