اسرائیلی فوج نے پیر کے روز ان دو فوجیوں کو 'علامتی نوعیت' کی سزائے قید سنا دی ہے۔ جنہوں نے پچھلے ماہ کے دوران لبنان میں مسیحی فرقے کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا تھا اور حضرت عیسیٰ کے مجسمے کو نقصان پہنچانے کے علاوہ اس کی توہین کرتے ہوئے اس پر کلہاڑے سے وار کیے تھے۔
یہ واقعہ جنوبی لبنان میں پیش آیا تھا ، جہاں اسرائیلی فوج نے مسلسل بمباری اور حملے کر کے دس لاکھ سے زائد لبنانیوں کو نقل مکانی پر مجبور کر دیا ہے، مجسمے کی توہین کے خلاف دنیا بھر میں مسیحیوں نے اپنی مذہبی حمیت کا اظہار سخت رد عمل کی صورت کیا۔ جس کے بعد اسرائیلی فوج کو اپنے اس جرم میں ملوث فوجیوں کے خلاف کارروائی کا اعلان کرنا پڑا۔
اب پیر کے روز اسرائیلی فوج نے اپنے دو فوجیوں کو بالترتیب 14 دنوں اور 21 دنوں کی سزائے قید سنائی جانے کی اطلاع دی ہے۔ ان میں سے مجسمے پر حملے کی ویڈیو بنانے والا فوجی 14 دن جیل میں رہے گا جبکہ حضرت عیسیٰ کے مجسمے کی توہین اور مسیحی مذہب کی توہین کرنے والے فوجی کو جیل میں 21 دن گزارنا ہوں گے۔